Episode 9

“جِیدا دِل ٹُٹ جائے،

جِیدی گَل مُک جائے،

جِینوں چوٹ لگے اُو  جانے”

باپ کی مار کے بعد ننیال کا ہاتھ سر پہ  پڑنا زخم پر نمک چھڑکنے اور باپ کے خلاف جزبات کو ابھارنے سے کم نہیں تھا۔جب باپ بیٹوں کو مارتا تو ننیالکےآنسو بہتے اوریہ کہ کر انہیں صبر دیتے کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا جب ہماری بچیوں کےبھائی جوانہوں گے جب باپ کے ظلم سے اپنی بہنوں کو آزاد کروائیں گے۔ جس سے بچوں میں باپ کے خلاف نفرت کے پہاڑ کھڑے ہوگئے۔دوسری طرف ایک اکیلا باپ چار بچوں کی دیکھ بھال اکیلا نہیں کر سکتا تھا جس کی وجہ سے اس نے خاندان کے ہی کسی گھر میں اچھی سی لڑکی دیکھ کر دوسری شادی کر لی۔ یوں وقت گزرتا گیا اور ہفتے دنوں کی طرح  اور سال مہینوں کی طرح گزرتے گئے اور اس کی دوسری بیوی  (حسینہ) کے ہاں سے پہلے ایک بیٹی اور پھر دو بیٹے ہوئے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبدالغفور کے دل میں اپنی دوسری بیوی اور اس کی اولاد سے  محبت بڑھتی گئی اور پہلی اولاد اس سے آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی گئی جس کا اسے مطلق علم نہ تھا وہ شخص جو دوسری شادی کرتے وقت دونوں اولادوں میں انصاف اور برابری کی کے وعدے کرتا تھا  آہستہ آہستہ وُہ وعدے دم توڑتے چلے گئے اور حسینہ کی  اولاد کی خوشی کو عزیز اور مقدم رکھنا اس کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا جب کہ عزیز کی اولاد اس کے لیے بس اولاد ہی بن کر رہ گئی جسے وہ کھلا پلا  تو رہا تھا ایک باپ بن کر مگر ان کی خواہشوں اور ضرورتوں کو ہمیشہ کچلتا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عزیز کی اولاد بھی  جوان ہو گئی اور سب سے بڑی بیٹی جس کا نام خالدہ تھا اس کی شادی کے لیے رشتے آنا شروع ہوگئے۔خاندان میں سے ایک گھر ایسا تھا جس کے پانچ بیٹے تھے اور سب پڑھے لکھے، خوبصورت، تربیت یافتہ، باادب  اور جوان اور کنوارے تھے جن میں سے صرف دوسرے نمبر والا سیف الرحمٰن شادی شدہ تھا۔اور سب بھائیوں کے چہرے  سنتِ نبوی سے منور تھے۔ جن میں سے چھوٹے دو بیٹے ابھی پڑھ رہے تھے انہوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے  (جس کا نام عبداللہ ناصرتھا) کےلیے رشتہ مانگا تو عبدالغفور  نے بڑے بیٹے کو یہ کہ کر رشتہ دینے سے انکار کر دیا کہ یہ بے شک پڑھا لکھا اور خوبرو اور با اخلاق لڑکاہے مگر وہ  بہت زیادہ مذہبی ذہنیت کا مالک ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد پر چلا جاتا ہے ۔وہ تو جہاد پر چلا جائے گا اور ایک دن شہید ہو جائے گا تو ہماری بیٹی اپنی ساری زندگی اکیلی کیسے گزارے گی۔اس لیے ہم اسے رشتہ نہیں دے سکتے۔اس کے بعد لڑکے والوں نے کہا چونکہ یہی ہمارا سب سے بڑا بیٹا ہے اور اس میں کسی چیز کی کمی بھی تو نہیں ہے اس لیے ہم سب سے پہلے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں مگر لڑکی کا باپ نہ مانا اور رشتے سے انکار کر دیا۔چونکہ وہ لڑکے کی ماں عبدالغفور کی خالہ تھی اس لیے انہوں نے سوچا کہ آپس کی بات ہے اور ہم ایک ہی خاندان کے ہیں لڑکی بھی دیکھی بھالی ہے اس لیے انہوں نے کہا کہ چلو ہمارے تیسرے نمبر والے بیٹے جس کا نام نعمان تھا اسے اپنا بیٹا بنا  لیں ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں تو اس پر بھی عبدالغفور نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ وہ آوارہ ہے اور کوئی کام نہیں کرتا اور نہ ہی زیادہ پڑھا لکھاہے اگررشتہ لینا ہی ہے تو چوتھے نمبر والے بیٹے جس کا نام عبدالرحمٰن ہے اس کے  لیں تو ہم سوچیں گے تو اس کی خالہ نے کہا کہ ابھی ہمارا بیٹا یونیوسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور ہماری اس کی شادی کرنے کا ابھی کو ارادہ نہیں ہے اس لیے  ہم سوچ کر  اور مشورہ کر کے بتائیں گے جب انہوں نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن سے اس کی رائے لی تو اس نے شادی سے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے لڑکی دیکھی بھالی ہے اور اچھی بھی ہے مگر میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا میں ابھی پڑھنا چاہتا ہوں۔اتنے میں ساتھ بیٹھے قریبی رشتہ دار  ،رشتہ مانگنے  آ گئے جو اصل میں عبدالغفور کی دوسری بیوی کی خالہ لگتی تھی۔اور ان کا گھر بھی عبدالغفور کے گھر کے سامنے ہی تھا تو عبدالغفور کی دوسری بیوی نے عبدالغفور کو اپنی خالہ کے ہاں رشتہ کے لیے رازی کر لیا تو عبدالغفور نے بنا اپنی بیٹی سے پوچھے وہاں رضامندی ظاہر کر دی  وہ جانتا تھا کہ وہ لڑکا بھی  اَ ن پڑھ گوار ہے جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا اور کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرتا اور اسے لوگوں میں اٹھنے بیٹھے کی بھی تمیز نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *