Episode 8

اب انہیں لگنے لگا کہ ہم مار  تو ویسے بھی دیے جائیں گے توفاروق نے کہا کہ میں تو اس چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لیتاہوں مجھ سے یہ مار برداشت نہیں ہوگی عبدالغفور نے کہا نہیں ہم بے قصور ہیں ہمیں بھلا ایسے کیوں ماریں گے۔تومصطفٰی کہتا ہے پاگل انسان دیکھتےنہیں ہو نیچے ملزم بھی یہی کہ رہا ہے کہ میں بے قصور ہوں مگر اس کی ایک نہیں سُنی جارہی اور یہ کہا جا رہا ہے کہ نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو تم مانو گے بلکہ ضرور مانو گے۔تو فاروق کہتا ہے ہاں مصطفٰی صحیح کہ رہا ہے کیا تم سنتے نہیں ہو نیچے کس بے رحمی سے انسان کو مارا جا رہا ہے کیا مارنے والے میں تمہیں ذرہ بھر بھی انسانیت نظر آتی ہے کہ وہ ہمیں نہیں مارے گا اور ساتھ بٹھا کر مٹھائی کھلائے گا۔ورنہ تم ہی بتاؤ جیل سے نکال کر ہمیں یہاں لانے کا کیا مقصد ہے؟یہ کہتے ہوئے فاروق نے کہا میں ابھی چھلانگ لگاتا ہوں یہ کہتا ہوا وہ کھڑکی کی طرف لپکاجس پر ان دونوں نے  اسے لپک کر زور سے پکڑ لیااورعبدالغفور روتا ہوا کہنے لگا  پہلے تم نہیں بلکہ میں مروں گا کیوں کہ تم دونوں میری بیوی کی وجہ سے اس انجام تک پہنچے ہو۔ وہ تینوں رو کر ایک دوسرے سے گلے لگ کر آخری مشورہ کرہی رہےتھے کہ ہم تینوں  ایک ہی ساتھ چھلانگ لگا کر مر جائیں گے۔ اتنے میں وہ تھانیداروہاں آ جاتا ہے جو انہیں جیل سے نکال کر یہاں لایا تھا۔اس نے ان کی سب باتیں سن لیں  اور ان سے کہا کہ تم تینوں پاگل ہو۔ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آج تم لوگوں کو سزا دلوانے کے لیے ملک شفیع نے ہمیں پیسے دیئے ہیں اس لیے ہم تمہیں نکال کر یہاں لائے ہیں تا کہ ملک شفیع سے کہ سکیں کہ تم لوگوں کو سزا مل چکی ہے اصل میں ہم آپ لوگوں کو سزا نہیں دینا چاہتے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے اور ملک شفیع جھوٹا ہے۔آپ لوگوں نے قتل نہیں گیا بلکہ آپ کی بیوی نے خود کشی کی ہے۔مگر اس کے بدلے  آپ تینوں مجھے بھی تو کچھ دو۔کیونکہ تھانیدار کو پتہ تھا کہ یہ تینوں زمیندار ہیں۔جس کو منہ سے پیسوں کی بات سنتے ہی وہ تینوں ایک ساتھ بولے صاحب ہمیں بچا لو ہم آپ کو منہ مانگی رقم دینے کے لیے تیار ہیں جس کے بعد تھانیدار خوش ہو گیا اور دونوں طرف رقم مٹور کر سکون میں آگیا۔اس کے بعد رقم کے بندوبست کے لیے انہوں نے صرف دو دن کا ٹائم لیا جس پر تھانیدار راضی ہو گیا۔کیونکہ اس کمینے تھانیدار نے رقم ہی اتنی زیادہ مانگی تھی جو فوراً دینا نہ ممکن تھی۔اس کے لیے زمین بیچنا پڑنی تھی۔اور وہ یہ کہ کر چلا گیا کہ تم آرام سے سو جاؤ صبح ہونے سے پہلے پہلے میں تمہیں جیل منتقل کر دوں گا اور تمہیں یہاں کوئی ہاتھ تک نہیں لگائے گا۔یہ سننے کے بعد انہیں کچھ تسلی ہوئی مگر پھر بھی  انہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔مگر تھانیدار نے سچ کہا تھا وہ انہیں صبح فجر کے وقت جیل لے لیاگیا۔جس کے بعد عبدالغفور اپنی تین ایکڑ زمین بیچیاور تھانیدار کو راضی کیا۔کیونکہ عبدالغفور کی بیوی کی وجہ سے مصطفٰی اور فاروق جیل میں تھے اس لیے ساری رقم اسے ہی دینی پڑتی ہے۔ آخر کار دو سال جیل کاٹنے کے بعد فیصلہ ان تینوں کے حق میں ہوا اور وہ بے گناہ ثابت ہو کر جیل کی سلاخوں سے باہر آگئے۔اور ایک نئی زندگی کی شروعات کی۔

جب واپس گھر آئےہیں تو یوں عبدالغفور کو اپنے باپ ہونے کے ناطے اپنے بچوں کی یاد اور فکر نے ستایا ۔اور اس نے کوشش کر کے کچھ لوگوں کے ذریعے اپنے بچے ننیال سے واپس منگوا لیے۔اس طرح عبدالغفور کی زندگی ایک مکمل کتاب بن کر رہ گئی۔وہ کتاب جو کسی نہ آج تک پڑھا نہیں کیونکہ اس کو کچھ علم نہ تھا کہ اس کےساتھ آخر ہوا کیا ہے۔اور وہ سب اس کے بھائی اور بھابھی کا کیا دھرا ہے۔وہ حقیقت سے انجان الٹا اپنے بھائی اور مصطفٰی کے سامنے شرمسار ہو کر ساری زندگی گزارنےلگا کہ اس کی بیوی کی وجہ سے انہوں نے اتنی تکلیفیں جھیلیں۔ ایک طرف وہ بچوں کو واپس لا کر خوش بھی ہوامگر اس کے ساتھ جو ُان کی ماں نے اور ان کے نانا ملک شفیع نے ظلم کے پہاڑ توڑےتھے  وہ نہ بھولنے والی یادیں اس کے ساتھ تھیں۔ایسے زخم جو مرتے دم تک نہ بھرنے والےتھے۔دوسری طرف بچوں کے دل میں ننیال کی طرف سےباپ کے خلاف بھری گئی نفرتوں نے بچوں کی زندگی کی تقدیرکا رخ بدل کر رکھ دیا۔کیونکہ ان کے ننیال ان کے دل میں ایک بات پیوست کرچکے تھے کہ آپ کی ماں کو ان کے باپ نے ہی مارا ہے اور اس پر بہت ظلم کرتا تھا اور تم لوگوں کو بھی ایک دن مار ڈالے گا۔بچے چونکہ چھوٹےاور نا سمجھ تھےاس لیے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہ تو تھے مگر ان کے دل میں بہت زیادہ خوف بیٹھا ہواتھا اور ان کے دل ننیال کی  محبت کی طرف کھینچےہوئے ہوتے تھے۔اور ان کے احسانوں تلے دبے ہوتے تھے کہ ان کے نانا نے انہیں دو سال کھلایا پلایا جب ان کے ابو جیل میں تھے۔دوسری طرف ان کا باپ جومعاشرہ میں سر اٹھا کے جینے کے قابل نہ تھا اپنا ماضی یاد  کر کے اپنے آپ کو کھائے جا رہا تھا بات بات پر لڑپڑتا اور بچوں کو جہاں پیار کرتا وہاں ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پرغصے میں حد سے تجاوز کر جاتا۔جس سے بچوں کے دلوں میں اس کے خلاف دل ہی دل میں نفرت پیدا ہوتی گئی۔اب انہیں بس ایک ہی دن کا انتظار تھا کہ وہ جلدی سے بڑے ہوکراپنی زندگی خوش گزارنے کے قابل ہو جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *