Episode 7

اور اللہ سے یہی شکوے کرتے کرتے سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔مگر رہتی دنیا تک اپنے ان سوالوں کا جواب چھوڑ گئی۔اور اس کا بڑا بیٹا بھاگتا ہوا ماں کے پاس آیا اور کہا امی امی مجھے ناشتہ دو تو تب اس نے دیکھا کہ ایک چارپائی پر اس کی ماں کے ہاتھ کی آخری مرتبہ پکی ہوئی روٹیاں پڑی ہیں اور دوسری چارپائی پر ماں لیٹی ہوئی ہے اور اس کے منہ سے سفید رنگ کی جھاگ نکل رہی ہے۔اور وہ ہچکیاں لے رہی ہے۔تب وہ تین سال کا بچہ ڈر گیا اور روتا  ہوا باہر آیا کہ میری امی کو کچھ ہو گیا ہےاور گھر کے لوگوں نے جب آ کر دیکھا تو وہ مر چکی تھی۔تب وہ بھاگتے ہوئے باہر جا کر عبدالغفور کا بتایا کہ عزیز نے زہر پی لی ہے تو وہ دونوں بھائی ہکے بکے رہ گئے۔جس پر عبدالغفور کےمنہ سے یہی الفاظ ادا ہوئے کہ اچھا ہوا کتی مر گئی ورنہ میں اسے ایسی موت دیتا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔پھر وہ گھر آئے اور سوچنے لگے کہ اب اس کی لاش کا کیا کیا جائے۔اس کے ماں باپ کو پہنچائی جائے یا دفنا دیا جائے۔تب عبدالغفور نے کہا کہ اس کتی کا کیا دفنانا۔ٹانگ میں رسہ ڈالو اور گھسیٹ کر ندی میں پھینک دو۔لیکن اس کے بھائی نے کہا کہ نہیں اس کی لاش اس کے باپ کے سپرد کر دیں تا کہ کوئی بھی مصیبت ہو تو پولیس ان کے جائے نہ کہ ہمارے پاس آئے۔اور انہوں نے وہ  لاوارث  لاش کو عزیز کے باپ کے گھر پہنچا دیا۔جس کے بعد لڑکی کا باپ (ملک شفیع) نے پولیس کو بلاتا اور لاش کو پاسٹ مارٹم کے کےلیے بھیج دیا۔اپنی بیٹی کے اس طرح انجام کے بعداب اسے بیٹی کی پرانی یادیں ستانے لگیں اور اسے لگنے لگا کہ اس کی بیٹی بے قصور تھی۔اس کے ساتھ ضرور ظلم و زیادتی ہوئی ہے لیکن کیسے ہوا  اور کیا ہوا اس بات سے انجان تھا۔اور اس نے اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فاروق اور عبدالغفور سے بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ کیوں نہ  ان دونوں پر قتل کا پرچا کروا کر ان لوگوں کو پھانسی چڑھوا کر ان سے بدلہ لیا جائے یہ بہترین موقع ہے اپنی بیٹی کے دکھوں کا ازالہ کرنے کا اوران ظالموں  کو پھانسی پر چڑھوا کر ان کی جائیداد اولاد کے سپرد کرنے کا تا کہ وہ بچے اپنی باقی کی زندگی سکھ سے گزار سکیں۔اور ساتھ ہی ان دونوں پر اور ان کے ایک ماموزاد بھائی ملک مصطفٰی پر قتل کا پرچا کرا دیا کہ ان تینوں نے مل کر میری بے گناہ بیٹی  پر ظلم ڈھائے اور اس کو قتل کردیا۔کیونکہ ملک مصطفٰی بھی فاروق اور عبدالغفور کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ ملک شفیع کی مخالفت کر چکا تھا۔جس کا غصہ بھی ملک شفیع کو پہلے سے تھا۔اب یہی موقع تھا کہ ان تینوں سے کی گئی زیادتیوں کا بدلہ لیا جائے۔ملک شفیع نے عبدالغفور اس کے بھائی اور مصطفٰی کو جیل کی سلاخوں میں بند کروا دیا  اور انہیں پھانسی پر لٹکوانے میں ہر ممکن کوشش کی۔پھر ایک رات ایک تھانیدار نے  ان تینوں کو جیل سے نکال کر رات کے اندھیرے میں باہر کسی دوسری جگہ چار منزلہ  پرائیویٹبلڈنگمیں منتقل کر دیا جہاں پر پہلے سے لوگوں کے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں ایک صفائی والے سے پوچھا تو پتہ چلا کہ نیچے ایک بہت غصے والا تھانیدار نشے میں دھت بیٹھاہے اور ملزم کی پٹائی ہو رہی ہے جب انہوں نے اوپر کی منزل سے جھانک کے نیچے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ تھانیدار نےمُلزم  کو رَسی کی مدد سے الٹا لٹکایا ہوا ہے اور اس کے منہ پر لال مِرچوں کا بھراہوا شاپر چڑھایا ہوا ہے اور اس کی دُبر میں(پخانہ کی جگہ میں) سپرائیٹ کی باتل ڈال رہا ہے اور اس کے پاؤں پر کلہاڑی سے کٹ لگا کر ان میں نمک بھر رہا ہے جس پر ملزم کے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آسمان میں گونج رہی ہیں۔ملزم  چیخ چیخ کر تھانیدار سے بس ایک ہی بات کر رہاہےکہ صاحب میں نے کوئی قتل نہیں کیا میں بالکل بے قصور ہوں مجھے جھوٹ کی بنیاد پر پھنسایا جا رہا ہے۔خدارا مجھ پر رَحم کریں مگر تھانیدار ہے کہ شراب کے نشے میں دُھت بیٹھا زور زور سے قہقہے لگا رہا ہے اور یہی کہ رہا ہے کہ تم مانو گے۔ تمہارا باپ بھی مانے گا۔نہیں مانو گے تو مار کر کہیں  پھینک دوں گا۔تھانیدار کے ساتھ کھڑا آدمی اس ملزم کو سمجھا  رہا ہے کہ تم جرم قبول کر لو وَرنہ تھانیدار صاحب مار ڈالیں گے۔اورتھانیدار صرف ایک ہی بات کر رہا ہےمَارو اِسے اور زیادہ مارو ۔تب تک مارو جب تک اقرار نہ کر لے۔مارنے والے ہنٹرمار رہے ہیں اور وہ تھانیدار ملزم کے جسم پرکلہاڑی سے کٹ لگا رہا ہے۔اور وہ تینوں  عبدالغفور اور اس کے ساتھی اوپر سے یہ سارا ماجرہ دیکھ رہے تھے۔اور جب اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بے شک عزیز نے خود زہر پی تھی مگر اس کو اس نوبت تک لانے والے ہم ہی تھی۔اب خدا کی لاٹھی پر یقین ہونے لگا  کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔کیونکہ  فاروق نے  تو سوچا تھا کہ شاید ایسا کرنے سے صرف عزیز سے بدلہ لے سکوں گا اور عبدالغفور سے طلاق دلوا کر عزیز کی زندگی برباد کر دوں گا اور لوگوں کی نظر میں بھی وہ سچا اور عزیز جھوٹی ثابت ہو جائے گی لیکن اسے کیا خبر تھیکہ کراچی سے واپس آنے پر اسے یہ سب دیکھنا پڑے گا کہ اس کا باپ زہر بھجوا دے گا۔کیونکہ وہ تو پہلے ہی عبدالغفور کو واپسی پر راستے میں اس بات پر قائل کر چکا تھا کہ عزیز کوہم لوگ جان سے نہیں ماریں گے بلکہ اس کے باپ کے پاس پہنچا دیں گے۔اب انہیں یقین ہونے لگاکہ اب ان تینوں کو موت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور اللہ ان سے انتقام لے کر چھوڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *