Episode 6

اوروہ شخص مجھ سے پکڑا نہیں گیا اور وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔جس پرعزیز ہکی بکی رہ گئی اور اس کا جسم اور زبان اس کا ساتھ چھوڑ گئے  وہ چیخ چیخ کر لوگوں سے اپنی سچائی بیان کرتی ہے لیکن کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو راضی نہیں ہوتا۔یہ ڈرامہ رچانے کے بعد وہ شیطان شخص عزیز کو گھر لایا اورکمرے میں بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا۔پھروُہ عزیز کے باپ کے پاس گیا اوراسے اپنی من گھڑت کہانی سنائی  اور اس طرح اس نے دنیا کے آگے عزیز سے اس کے جینے کا مقصد بھی چھین لیا اور اس کے باپ سے پوچھاکہ اب آپ کی بیٹی کاہم کیا کریں؟ہم اپنے بھائی سے کہ کر طلاق دلوا دیں گےلیکن ہماس کو جان سے نہیں ماریں گے پھر آپ اس سے جو مرضی سلوک کروآپ بہتر جانتے ہو۔جس کے جواب میں عزیز کےباپ نےصرف اتناکہا کہ اسے یا تو ٹرین پر چڑھا کر کہیں دور دفع کر دو جہاں سے دوبارہ مجھے نظر نہ آئے یا اسے مار ڈالو اب میرا اس سے کوئی تعلق نہیں رہاورنہ جس دن وہ میرے سامنے آئی میں اسے مار ڈالوں گااس کے بعد ملک فاروق  اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا گھر واپس آیا اور پھراپنے بھائی کو گھر واپس لانے کے لیے کراچی چلا گیااس کے کراچی جانے کے بعد گھر کی باقی عورتوں نےعزیز پرترس کھا کر اور اس کے آنسو دیکھ کر یہ سوچ کراس کے کمرے کا تالا کھول دیا کہ اب جو سانسیں زندگی کی باقی ہیں وہ لے لے مرنا تو اس کا مقدر بن چکا ہےاوراس طرح قید میں نہ پڑی رہے اب جو ہونا ہے وہ تو ہوکرہی رہےگا۔اس کے بعد عزیز کا باپ اپنی دوسری بیٹی جس کا نام نسیم تھا  اور اسکا گھر بھی عزیز کے گھر کے قریب ہی تھااس کے ذریعے عزیز کو خفیہ ایک زہر کی بوتل بھیجوائی کہ یا تو وہ اسے پی کر مر جائے اور میرے سامنے مت آئے ورنہ میں بہت دردناک موت دوں گا۔اتنے میں زندگی سے ہاری ہوئی عورت عزیز کا خاوند اور اسکا بھائی گھر پہنچ  جاتےہیں مگر ابھی گھر کے  اندرداخل نہیں ہوئے ہوتے کیونکہ باہر ان کےڈیرے پر ان کا ایک دوست پہلے سےبیٹھا ان کے ملنے کا انتظار کر رہاتھا۔دوسری طرف عزیز کا جسم اور سانسیں اس کا ساتھ چھوڑچکی تھیں کیونکہ اسے پتہ تھا کہ جوخاوند اس پر پہلے ہی شک کرتا تھا اور گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا اب وہ جب واپس آئے گا تو اس کا کیا انجام ہوگا۔وہ کس طرح ازیت کی موت دے گا وہ اسے اندازہ تھا۔کیونکہ وہ پہلے ہی اس کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔صبح کا وقت تھا جب وہ اپنے بچوں کے لیے آخری بار ناشتہ پکا کر کمرے میں بیٹھتی تھی کہ اتنے میں ایک بچا بھاگتا ہوا گھرآیا اورخوش ہو کر باپ کے واپس آ جانے کی خبرسنائی کہ ابوآ گئے ہیں۔جس کو سننے کے بعد عزیز کو اتنا وقت بھی نہیں مل سکا کہ وہ اپنے چاروں بچوں کو بلا کر آخری مرتبہ سینے سے لگا لیتی بیچاری  ڈر کے مارے ہانپتی ہوئی جلدی سے اٹھی اور باپ کی بھیجی ہوئی زہر پی کر خود کشی کرنے کو خاوند کی طرف سے ملنے والی اذیت پر ترجیح دی۔جسے اس نے دُو دن سے اپنے پاس چھپا کر رکھا ہواتھاے کہ شاید اللہ کی رحمت اور اس کا سایہ اس کا ساتھ دے اور کسی طرح وہ بچ جائے مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اس کا واسطہ انسانوں سے پڑا ہے جو رَب کا دیا ہو اکھا کر بھول جاتے ہیں۔وہ اسے کبھی معاف نہیں کریں گےاگر اس کا واسطہ اللہ سے پڑا ہوتا تو وہ یقیناً اس سے نکلنے کی کوئی سبیل بھی پیدا کر دیتا۔لیکن انسان کہاں بخشتا ہے۔جس کی صفت میں غصہ اور جلد بازی ہو۔زہر پینے کے بعد درد اور جلن کی شدت کی وجہ سے وہ تڑپتی ہوئی چارپائی پر لیٹ گئی اور اس کا سر تھوڑا سا نیچے لٹک گیا اور آنکھیں کھلی کی کھلی آسمان تک رہی تھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اللہ سے ایک نہیں بلکہ ہزاروں سوال کر رہی ہوں کہ یا اللہ آخر میرا انجام اس طرح کیوں ہوا؟ یا اللہ میرے ماں باپ باقی زندگی کیسے گزاریں گے اور لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟ یا اللہ تو تو کہتا تھا میں بڑا غفورورحیم ہوں پھر مجھ پر اور میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر تجھے ترس کیوں نہ آیا۔میرے سب چھوٹے بیٹے کی عمر ابھی 2 سال بھی نہیں ہے۔یا اللہ میرے بچے کیسے جئیں گے ان ظالوں کے ساتھ۔اے پروردَگار میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ آخر مجھے اتنی مہلت کیوں نہ دی کہ میں اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کر سکتی۔اپنے بچوں کی شادیاں کرتی اور ان کی خوشیاں مناتی۔اے ربِ ذول جلال اب میرا اور میرے بچوں کا اور ان ظالموں کا حساب آپ کے سپردہے اور اب اس کا انتقام قیامت والے دن ملک فاروق اور عبدالغفور دونوں سے لوں گی۔یا اللہ ان کو اس دنیا اور آخرت میں برباد کر دےآمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *