Episode 5

۔ اس شک کی بنا ء پر وہ اسے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن عورتخاموشی سے اور درگزر سے کام لیتی ہے۔عورت اپنے معمول کی زندگی میں مست رہتی ہے۔ اس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا اسے شادی کے اتنے لمبےعرصے بعد بھی ایسے ایسے دن دیکھنے پڑیں گے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی۔دوسری طرف اس کے خاوند کا شک مزید بڑھتا گیا اور وہِم یقین میں بدلتا گیا۔اس کے دل میں طرح طرح کے گمان آنے لگتے ہیں کہ وہ اس کا کسی دوسرے کے ساتھ چکر ہے۔جس  شک کی بنا پر ہمیشہ اس کو سمجھاتا بھی ہے اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر مارنا پیٹنا اس کا معمول بن جاتا ہے۔دوسری طرف عورت کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ آخر وہ کہنا کیا چاہتا ہے اور کیوں اس طرح ظلم و زیادتی پر اتر آیا ہے۔وہ سمجھتی ہے کہ شاید اسے کوئی دوسری عورت پسند آ گئی ہے۔شاید اب اسے میں پیاری نہیں لگتی۔جس پر عورت ہمیشہ اپنے خاوند سے گلے شکوےکرتی ہے۔لیکن اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اسی تکرار میں کافی وقت گزر جاتا ہے۔کیونکہ یہ  عبدلغفور  کاصرف وہم ہوتا ہے اس لیے وہ اسےکسی بھی غیر مرد کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے میں بری طرح  ناکام رہتا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب عبدالغفور اپنے بھائی اور بھابھی اور اپنے تیار کردہ شکوک و شباحات کا اس طرح شکار ہو جاتا ہے کہ اب وہ اپنی ہی نظروں میں ایک ہارا ہوا شخص لگنے لگتا ہے اور ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے۔ اور ہمیشہ بیوی پر ظلم وزیادتی پر عورت کا دل بھی اس کے چل جاتا ہے جس پر وہ اور زیادہ ٹارچر کرنا شروع کر دیتا ہے۔پھر ایک دن وہ عزیزکو بہت بے رحمی سے مارتا پیٹتا ہے اور  اس کو طلاق دے کر ماں باپ کے ہاں بھیج  دیتا ہے۔وہ عورت دو بچے اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور دو بچے باپ کے پاس چھوڑ جاتے ہیں اور اپنے ماں باپ کے پاس پہنچ کر انہیں اپنے خاوند، اسکے بڑے بھائی اوراسکی بیوی کے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتا دیتی ہے کہ وہ سب مجھ پرکس طرح تشدد کرتے تھے۔مگر میں نے آج تک آپ کے سامنے کوئی بات نہیں کی لیکن اب چونکہ بات اس حد تک پہنچ گئی ہے تو اب میں بتائے بغیر چپ نہیں رہ سکتی۔ لڑکی کا باپ بھی بہت غصہ والا اور جذباتی شخص تھا جس کی جلد بازیوں اور غصے کو پورا زمانہ جانتا تھایہ سب سنتے ہی شدید غصے میں آگیااور اپنی بیٹی کو لے کے عدالت کا رخ اختیار کیا کہ میری بیٹی کے ساتھ بہت ظلم ہواہےہمیں انصاف دلایا جائے اور میری بیٹی کی اولاد ہمیں دلائی جائے ورنہ ہمیں ڈر ہے کہ ان کا ظالم باپ انہیں غیر طلافی نقصان  نہ پہنچائے۔اس طرح عدالت بچوں کو ان کی ماں کے سپرد کرتی ہے۔ دوسری طرف  کچھ عرصہ کے بعد جب عبدالغفور کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور اپنی اولاد اور بیوی کی یاد ستاتی ہے تو اور وہ  اپنی اولاد کو دوسروں کے ہاں پلتا نہیں دیکھنا چاہتا وہ عدالت میں اپنی ہار تسلیم کر لیتا ہے اور بیوی اوربیوی سے معافی مانگ کر بیوی کو اپنے گھر واپس لاتا ہے۔بے شک بیوی پر اب اسےاعتبار  نہیں ہوتا مگر وہ اپنی اولاد کی خاطر سب کچھ بھلانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ایسے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا جس پر عبدالغفور کا بھائی اور اس کی بیوی ہرگز راضی نہیں تھے کہ آخر یہ اسے کیوں واپس لایا ہے  اور ہر حال میں وہ عزیز کو برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے تو  وہ عبدالغفور کو ہر طرح سے مجبور کرتے ہیں اور اس کے لیے بیوی کی ہر ممکن جگہ پر رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔چونکہ پہلے ہی عبدالغفور کو وہ اچھی نہیں لگتی تھی  جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اسے آئے روز ذلیل وخوار کرنے لگا  اور اس پر ہر طرح کے ظلم ڈھانے لگا اور اس بات کا بدلہ لینے لگا کہ باپ کے ساتھ مل وہ میرے خلاف عدالت کیوں پہنچی۔اور ہر بات پر  اسے بدچلنی کے طعنے مار مار کر اس کا جینا حرام کرنے لگا۔ایک دن اسی لڑائی میںوہ اس سے اپنا بستر اور کمرہ الگ کر لیتا ہے۔بات یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ عبدالغفور اپنے ہے وہم و گمان میں اس بری طرح ذلیل و خوار ہو گیا کہ وہ اپنے ہی  گھر میں گھٹن محسوس کرنے لگا اور وُہ اپنی ساری جائیداد اور گھر اور سب رشتوں کو چھوڑ دیتا ہے یہ سوچ کر کہ اب ایسے رشتوں کے ساتھ ایسی گھٹن والی اور نہ معلوم زندگی گزارنے سے یا کوئی اور طرح کا  نقصان کرنے سے بہتر ہے  اس ذلیل زندگی سےدور چلا جائے۔تو وہ  اپنے ایک دوست کے ہاں کراچی شہر چلا گیا  تا کہ وہاں رہ کرکوئی نہ کوئی کام کر کے اپنی باقی کی زندگی گزارے اور سکون کا سانس لے۔جب وہ  بیوی سے لڑ کرچلا گیا تو عزیز اب گھر میں اکیلی رہ گئی ۔یہ وہ زمانہ تھا جب گھروں کے اندر باتھ روم کا کوئی رواج نہیں ہوتا تھا اس لیے رات کے اندھیرے میں رفعِ حاجت کے لیے عورتوں کو باہر جانا پڑتا تھا۔عبدالغفور کے گھر چھوڑ جانے سے اس کے شیطان بھائی اور بھابھی کو بہترین موقع ملا اور وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ایک رات عزیز رفع حاجت کے لیے جب  رات کے اندھیرے میں گھر سے باہر گئی تو  عبدالغفور کا بھائی فاروق وہ اپنے گھر کی چھت پر سویا ہوا تھا جو اپنی بیوی کے ساتھ مل کر پلان تو پہلے ہی بنا چکا تھا اب وہ صحیح موقع کی تلاش میں تھا۔اسے یہ موقع بہت ہی سنہری لگا جباس نےرات کے اندھیرے میں عزیز کو گھر سے باہرجاتا دیکھا  تو وہ  اس کا پیچھانے لگااور اس کے قریب پہنچ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ “یہ فلاں شخص کو ملنے باہر آئی تھی جسے میں نے رنگے ہاتھوں پکڑالیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *