Episode 4

اسی  گاؤں میں ایک زمیندار رہتا تھا ۔ جس کو اپنے باپ کی وراثت سے ڈھیر ساری زمینیں ورثے میں ملی تھیں جس پر اس کا گزر بسر تھا۔ وہ شخص دل کا صاف اور نیت کا بہت ہی سادہ انسان تھا مگر تھوڑاسا  جزباتی تھا جب اسے کسی بات پر غصہ آتا تو اسے اتنا غصہ آ جاتا کہ غصے کی حالت میں اُس حد تک چلا جاتا اور ایسے  ایسےکام بھی کرگزرتا  جس سے اس کو خود بہت نقصان اٹھانا پڑتا ۔ کئی دفعہ اسے اپنے فیصلے پر پچھتانا بھی پڑا جو پہلے اس نے صحیح سمجھ کر کیے تھے۔ جوانی کے دن عروج پر تھے بہت سوچنے کے بعد آخر کار ایک دن اس نے اپنے باپ سے اپنیشادی کی بات کر ڈالی کہ فلاں لڑکی سے میرا رشتہ کر دیں مجھے وہ بہت پسند ہے۔ وہ اس کے چچا زاد بھائی کی بیٹی تھی گھر والوں کو راضی اور تیار کرتے کرتے بہت دیر ہو چکی تھی  تب تک اس لڑکی کا رشتہ کسی دوسرے گھر میں طے ہو چکا ہوتا ہے۔ جس کا انہیں مطلق علم نہیں ہوتا۔مگروہ اس لڑکی سے بے حد محبت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنےگھر والوں کو ان کے ہاں رشتہ کے لیے بھیجتا ہے  کہ کسی طرح وہاں سے رشتہ توڑ کر ہمارے ساتھ کر لیں۔لیکن “اب بچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت”۔

چونکہ وہ اُن کے چچا زاد بھائی ہوتے ہیں اس لیے لڑکی والوں کا بھی  رجحان زیادہ انہی کی طرف ہو جاتا ہے تا کہ ان کی بیٹی صرف ایک دیوار کی دُوری پر ہو۔اسلیے جیسے تیسے کر کے  زمیندار کے ماں باپ لڑکے والوں سےرشتہ توڑنے کی اپیل کرتے ہیں اور انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان رشتہ توڑ کر ہمارے ساتھ کر لیں۔اس لیے جب وہ ان  کی بہت زیادہ محبت اور خلوص دیکھتے ہیں تو رشتہ توڑ دیتے ہیں اس طرح وہ دونوں آپ میں رشتہ کر لیتے ہیں اور یہی سے خوشحال زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔ لڑکی کا نام عزیز اور لڑکے نام عبدالغفور تھاچونکہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اس لیے ان کی زندگی کی شروعات بہت اچھے اور گہرے رشتے سے ہوتی ہے۔

زندگی کے تقریبا آٹھ سے دس سال بہت اچھے گزرتے ہیں۔ ان کے ہاں پہلے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں اور پھر دو بیٹے۔ مگر بعد میں ان کی خوشیاں کسی کی بد نظری کی بھینٹ چڑھ گئیں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارا یہ چھوٹا سا گلشن  ایک دن اس حد تک تذلیل کا شکار ہوگا اور زندگی  اس طرح دردناک سبق پڑھائے گی کہ اگر زندہ رہے تو زندہ لاش بن کر جینا مقدر بن جائے گا۔ عزیز اپنے گھر میں بے حد خوش ہوتی ہے اور بنا کسی سوچ و پریشانی کے اپنی زندگی کو سکون سے جی رہی ہوتی ہے۔دوسری طرف عبدالغفور کابڑے  بھائی پر شیطان سوار ہوتا ہے اور وہ عزیز پر پیار کی ڈوری ڈالنے کے چکر میں ادھر ادھر گھوم رہا ہوتا ہے اور صحیح موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔جس کی طبعیت میں پہلے دن سے شیطانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔جس کو عزیز لفٹ نہیں کرواتی اور یہ بات وہ اپنے خاوند کو بھی نہیں بتا پاتی کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند اپنے بھائی سے بہت پیار کرتا ہے اور اس کی کسی بات کو ٹال نہیں سکتا۔اب اگر وہ اس کو اس کے بھائی کے خلاف ایسی بات کرتی ہے تو اس کا انجام بھی اسے یا تو موت ہو گا یا شدید ظلم و شدد سہنا پڑے گا۔چار بچوں کی ماں ہونے کے ناتے جس پر  وہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھتی ہے۔لیکن اسے کیا پتہ تھا جس  شیطان نما  درندے شخص (فاروق) کے ساتھ اس کا پالا پڑا ہے وہ اسے زندگی میں ایسے ایسے موڑ دکھائے گا جس کا وہ تو کیا کوئی عورت بھی اپنی زندگی میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔خیر یہی ایک وجہ ہوتی ہے جس پر فاروق بدلے کی آگ میں جھلس رہا ہوتا ہے۔عزیزکے آگے اس بری طرح  ہارنے پروہ انتقام پر اتر آتا ہے اور سب سے پہلے اپنی بیوی کو اس کے خلاف بھڑکاتا  ہے جس سے فاروق کی بیوی کو بھی اپنے دل کی آگ بجھانے کا بہترین موقع مل جاتا ہے ۔پھر وہ عبدالغفور کو اسکے خلاف ہر ممکن حد تک بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس کا ساتھ اسکی اپنی بیوی بھی اس طرح دیتی ہے کہ عزیز پر خواہ مخواہ کے الزامات لگا لگا کر عبدالغفور کی نظروں میں اس کی باقی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملا دیتی ہے۔اور پھر ان کے روز کے کان بھرنے کی وجہ سے عبدالغفوربھی اس پربے جا شک کرنے لگتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *