Episode 3

تب گھر کی  ساری عورتیں  اور چھوٹی بچیا ں انہیں گھیر لیتی۔وہ انہیں سارے ڈیزائن نکال نکال کر دکھاتیں اور جو اچھا لگتا پہنتی جاتی۔پھر گھر کی بہو کی باری آتی جو بڑے نازوں سے چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل کر ان سب کے پاس آتی۔انہیں دیکھتے ہی وہ بیبیاں پہچان جاتیں کہ یہ نئی نویلی دلہن ہے۔وہ اس کے آگے چوڑیوں کے ڈھیر لگا دیتیں اور سب سے اچھی چوڑیاں جو نیچے چھپا کر رکھی ہوتی تھیں وہ نکال کر دیکھاتیں اور بہو کی تعریفوں کے پل باندھ دیتیں اور ساتھ ہی ساس سے بھی کہتی کہ اتنی پیاری بہو ہے آپکی اس کے ہاتھ میں چوڑیاں بہت کم ہیں کیوں؟ پھر دلہن سے مخاطب ہو کر کہتی بہو یہ چوڑیاں پہنو آپ کی کلائیاں بہت گوری ہیں بہت پیاری لگیں گی۔اس طرح بہو اندر ہی اندر خوشی سے پھولے نہ سماتی اورساتھ بیٹھی  نَند  اس کی تعریف سن کر اندر ہی اندر جلتی رہتی مگرچہرے پر جھوٹ موٹ کی مسکراہٹ رکھتی۔اور بہو کی بھی کوشش ہوتی کی ساس کے خرچے سے زیادہ سے زیادہ چوڑیاں پہن لے۔

“ممکن ہےہمیں گاؤں بھی پہچان نہ پائے

بچپن میں ہی ہم گھر سےکمانےنکلے ہیں”

“چلوآج پھربچپن کاکوئی کھیل کھیلیں

بڑی مدت ہوئی بے وجہ ہنس کر نہیں دیکھا”

“یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگرمجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون

وہ کاغذکی کشتی وہ بارش کا پانی”

یوں تو پاکستان کے ہر صوبے کے لوگوں کے تقریباََ رسم و رواج ملتے جلتے ہیں مگر اس ادنٰی چیز کاایک چھوٹا سا قصبہ جو کوٹ سمابہ کے نام سے مشہور ہے جو کہ صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے خوبصورت شہر رحیم یار خاں سے شمال مشرق کی جانب 20 کلومیٹر کی دوری پر اپنا وجودِ بے مثال رکھتا ہے۔

یہ ایک سچی کہانی ہے جو میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں۔ میں اس کہانی کی شروعات اس مصرے سے شروع کروں گا ۔امید ہے آپ غور سے پڑھیں گے۔

عرض کیا ہے :

“دل کے ارماں آنسوں میں بہہ گئے

ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *