Episode 26

جس کی ممتا کی لوگ آج بھی بری مثال بیان کرتے ہیں کہ کوئی ماں اپنی اولاد کو اس قدر رسوا کرنے کے لیے درد بھری  اور ظالم دنیا میں اکیلا کیسے چھوڑ سکتی ہے۔اس نے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچا کہ آخر اس کے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک ہو گا یا اس کی زندگی کن حالات سے گزرے گی۔اسے ان باتوں سے کوئی غرض نہیں تھی وہ بس اپنی زندگی میں خوشیاں دیکھنا چاہتی تھی اور یہ فیصلہ بھی شاید اس نے خود نہیں کیا تھا بلکہ اس فیصلے پر بھی اسے اس کے باپ عبدالغفور اور چاچا  اور باقی گھر والوں نے آمادہ کیا تھا۔لیکن حیرت تو شاید اس بات پر بھی ہوتی ہوگی کہ ایک ماں اپنی اولاد کا مستقبل اس طرح برباد کسی دوسرے کے کہنے پر کیسے کر سکتی ہے۔لیکن عبدالرحمٰن   کی دوسری بیوی کا بیٹا اس کے ساتھ چلا گیا جسے وہ عبدالرحمٰن کو دینےکے حق میں نہیں تھی۔اس کے کچھ ہی عرصہ بعد عبدالرحمٰن   کے باپ نے اپنی جائیداد کی تقسیم کی اور اپنی ساری اولاد کو جائیداد اُن کے نام کر  دی۔ اس طرح رقیہ کو اللہ نے اپنی رحمت کے سائے میں چھت عطا کی۔اور دوسری طرف اللہ نے شہزاد کو مزید آگے بڑھنے اور اپنی حکمت کی پہچان کروانے کے لیے ایک اور مقام عطا فرمایا جہاں اسے سعودی عرب کی ہی ایک سیمی گورنمنٹ کمپنی میں آئی-ٹی منیجر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا اور تنخواہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ابھی شہزاد اور اسکی چھوٹی سی فیملی کےساتھ زندگی کے باقی دن ہنسی خوشی گزار رہے ہیں جن میں کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔وہ دونوں اپنے بچوں کے ساتھ بہت سکون کی زندگی جی رہے ہیں۔لیکن جب وہ اپنا گزرا  ہوا  ماضی اور اپنے خونی رشتوں کو یاد کرتے ہیں تو ایک انجان دنیا میں کھو جاتے ہیں کہ اتنے قریبی خون کے رشتے  بھلا ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ زندگی کے بھیانک فلم دیکھنے کے بعد اب انہیں یہ بھی یقین ہو گیا ہے کہ اللہ کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے۔اس لیے انسان کو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کے آگے ہمیشہ سربسجود ہو کر اللہ سے مانگا جائے تو اللہ کسی ہاتھ کو خالی نہیں لوٹاتا۔اللہ بڑا غفور و رحیم ہے بس انسان کو آزماتا رہتا ہے کہ وہ میرا کتنا شکر گزار ہے اور مشکل وقت میں کتنا صبر کرتا ہے۔اگر انسان اچھائی پسند ہو اور اللہ سے ڈرنے والا ہو تو اللہ اس کا اس کا بدلہ اس دنیا میں ہی دے دیتا ہے اور آخرت میں تو اس کا صلہ اللہ کے پاس تیار ہے ہی۔یہ صرف شہزاد کی زندگی کی کہانی نہیں ہے اگر اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر گھر میں ملک فاروق اور اس کی بیوی اور ملک عبدالغفور جیسے شخص ملیں گے اور ہر گھر میں ایک شہزاد اور رقیہ ذلیل ہوتے دکھائی دیں گے۔کیا انسان اللہ سے بلکل بھی نہیں ڈرتا کہ آخر اتنے لوگوں کی زندگیاں بربار کر کے اسے ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔کیوں انسان بھول جاتا ہے کہ اس کے اللہ کو جواب دینا ہے۔کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ طاقت ور ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *