Episode 25

کچھ عرصہ رقیہ سکول میں پڑھاتی رہی لیکن گھر کے کاموں کی مصروفیت کی وجہ سے سکول چھوڑ ناپڑا۔  شہزاد نے پوری محنت اور ایمانداری سے کام کیا اور مہینوں کا کام دنوں میں سیکھا  اور کام سیکھنے کے لیے نہ  دِن دیکھا نہ رات ۔اس نے تقریباَ ایک دوسال وہاں کام کیا اور پھر اسے اس سےبھی اچھی جگہ نوکری کی آفر ہوئی تو اس نے اسے فوراً قبول کیا اور  لاہور چلا گیا اور وہاں اسے اس سے ڈبل تنخواہ ملی۔ چونکہ رقیہ کا گھر اپنے مان باپ کے گھر کے پاس ہی تھا اور شہزاد کے دور چلے جانے کے بعد وہ اکیلی  ہو گئی تو اسے مجبوراً  ماں باپ کے گھر بیٹھناپڑا کیونکہ شہزاد کی تنخواہ اتنی زیاد نہیں تھی کہ لاہور جیسے شہر میں فیملی کے ساتھ رکھا جائے۔ وہاں شہزاد نے تقریباَ ایک سال سے زیادہ عرصہ کام کیا۔اسی دوران اس کے ہاں اللہ نے اپنی رحمت نازل کی اور اسے ایک پھول جیسی بیٹی سے نوازا جسے پا کر شہزاد اور رقیہ ہر دکھ بھول گئے۔ پہلے وہ اپنے لیے محنت کرتے تھے اور دنیا کہ دُکھوں  اور پریشانیوں کا مقابلہ اپنے لیے کرتے تھے لیکن اب ان کے مقصد بدل گئے اب وہ دونوں اپنی ذات کو بھول گئے اور اپنی بیٹی کے لیے دن رات کوشش کرنے لگے۔ وہاں شہزاد نے ایک سال سے زائد عرصہ کام کیا مگر خوراک اور موسم اس کا راس نہ آیا اور وہ شدید بیمار پڑ گیا۔ یہاں تک کہ اسکی حالت غیر ہو گئی۔اسی دوران عابدہ کاخاوند اور سب گھر والوں کے ساتھ جھگڑے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے خاوند نے  دوسری شادی بھی کر لی۔اور بیماری کی تاب نہ اٹھاتے ہوئے شہزاد بھی واپس آ گیا اور کرائے کا مکان لے کر رقیہ اور الگ رہنے لگے۔ یوں زندگیکے نو مہینے بغیر نوکری کے ان دونوں کی زندگی کے سب سے مشکل دن گزرے۔ شہزاد کی بیماری پر بھی بہت پیسہ خرچ ہوا اور بیٹی بھی ہمیشہ بیمار رہتی جس پر  اخراجات بڑھتے گئے۔نوبت یہاں تک آگئی کہ وہ اپنی معصوم سی بیٹ جو ابھی ایک سال کی بھی نہیں تھی اسے  پیٹ بھر کردودھ بھی نہیں پلاسکتے تھے۔ جب شہزاد گھر سے باہر جاتا  تو رقیہ دودھ میں پانی شامل کر کے بیٹی کا پیٹ پالتی تا کہ کچھ زیادہ ہو جائے اور شہزاد کی غیر موجودگی میں اس بات پر اکیلی چھپ چھپ کر روتی اور اللہ سے رزق کی دعا کرتی۔ رقیہ کا بھائی عبدالرحمٰن ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیتا اور ہر ضرورت پوری کرنے میں کوئیکَسر باقی نہ چھوڑتا۔ وُہ دونوں بہت پریشان تھے ۔پریشانی کے گھراؤ کی وجہ سے شہزاد اکثر رقیہ سے  سخت مزاج رہتا  اور اکیلا چھپ چھپ کر روتا تھا لیکن رقیہ اس کے سامنے اُف تک نہیں کرتی تھی شاید اس کے صبر نے ہی ان دونوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ رقیہ نے عبدالرحمٰن سے کہا کہ شہزاد کو سعودی عرب بلوالو میں اپنے زیور بیچ کر جو پیسے ہو سکیں گے دوں گی تا کہ وہاں جا کر شاید ہماری روزی فراغ ہو جائے۔اور اپنے سارے   زیورات  بیچ کر اور اپنے بہن بھائیوں سے  چھ، سات لاکھ قرض لے کر شہزاد کو سعودی عرب بھیجا۔ جہاں دو مہینے کے بعد اسے ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کمپیوٹر انجینئر کے طور اچھی تنخواہ پر نوکری ملی۔ یوں ان کا مشکل وقت گزر گیااور وہ دونوں اللہ کے بہت شکر گزار ہوئے۔شہزاد کے سعودی عرب آنے کے تقریباَ ایک سال بعد عبدالرحمٰن  اور اس کی دوسری بیوی  (زبیدہ) کے درمیان تنازعات شروع ہو گئے جس پر زبیدہ نےعابدہ کو طلاق دینے کی شرط رکھی۔ اور بات عدالت تک پہنچ گئی چونکہ عابدہ بھی اپنا گھر بسانے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتی تھی اور سب گھر والوں کو طرح طرح کی دھمکیاں لگا چکی تھی اور عبدالرحمٰن   تو پہلے ہی اس رشتے پر راضی نہیں تھا جس سے عبدالرحمٰن کو بھی موقع مل گیا اور اس نے اپنا دوسرا گھر زبیدہ کے ساتھ بسانے کے لیے مجبور ہو کر عابدہ کو طلاق دے دی۔دوسری طرف اس کی زبیدہ نے بھی عدالت میں کیس کر رکھا تھا جس کی بناء پر اس کے بھائیوں اور عبدالرحمٰن کے درمیان  اناء پرستی اورتنازعات  زُورپکڑ گئے جس کے نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے عبدالرحمٰن   سےعدالت کے ذریعےزبیدہ کی  طلاق لے لی اور زبیدہ کی شادی دوسری جگہ اپنے خاندان میں کر دی۔عبدالرحمٰن   کے دونوں بیویوں میں سے ایک ایک بیٹا تھا۔طلاق کے فوراً بعد عابدہ نے بیٹا عبدالرحمٰن  کو لوٹا دیا اور خود دوسری شادی کر لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *