Episode 24

انہوں نے ملک اکرم کو بلوا کراس سے بات کی تو ملک اکرم نے عابدہ کے سسر کے بات کی کہ عبدالغفور کو اب احساس ہو گیا ہے وہ عابدہ کو واپس گھر بھیجنے پر آمادہ ہو گیا ہے اس لیے اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے لے کر آ سکتا ہوں۔جس پر عابدہ کے سسر نے فوراً حامی بھر لی اور اس طرح عابدہ کی صلح بھی ہوگئی اور وہ واپس آگئی۔لیکنیہ ایک صلح نہیں بلکہ عابدہ اور اس کے باپ اور چاچا کے درمیان سازش کی ایک نئی راہ تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر عابدہ کو اس کے گھر نہیں بھیجتے تو شہزاد ،رقیہ اور اس کے سسرال کے راستے ہم سےمستقل الگ ہو گئے ہیں اور ہمیں کسی طرح سے موقع نہیں مل رہا ان کے معاملات میں عمل دخل کا۔اس طرح دوبارہ موقع مل جائے گا۔ کہ کہیں وہ اپنی زندگی میں خوشیوں کا منہ نہ دیکھ لے اس لیے عابدہ کو اپنے خاوند کے گھر واپس جانا ہوگا تا کہ گھر میں نت نئے فساد کھڑے کر کے ان فسادات میں رقیہ اور شہزاد کو گھسیٹا جا سکے۔ لیکن شہزاداب اچھی طرح جان چکا تھا کہ عابدہ اپنا گھر بسانے نہیں بلکہ رقیہ اور اس کا گھربرباد کرنے کا مشن لے کر واپس آ ئی ہے۔لیکن وہ کیا کرتے چپ چاپ تماشا دیکھتے رہے۔ آئے روز عابدہ کے گھر میں تماشے ہوتے کبھی ساس کو برا بھلا کہتی تو کبھی گھرکے دوسرے افراد کے ساتھ جھگڑا  اور ہر جھگڑے کی فریاد لے کر فوراً شہزاد کےپاس بھاگتی ہوئی آتی تا کہ کسی نہ کسی طرح اسے بھی ملوث کیا جائے اوروہ میرے مگر مچھ والےآنسو دیکھ کر اپنے سسرال کے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے تو  یوں اس کا اپنے سسرال کے ساتھ تنازع پیدا ہو جائے گا جس کا شکار رقیہ اور شہزاد دونوں ہو گئے۔اور اسی طرح ان دونوں گھروں میں ایک بار پھر آگ بھڑکائی جا سکتی ہے۔تو عبدالرحمٰن اور اسکی فیملی غصہ میں آ کر مجھے طلاق دے دیں اور اسکے بدلے میں شہزاد  رقیہ کو طلاق دے دے۔اور پھر ملک فاروق اور ان کا بھولا باپ اور عابدہ کا اور ان کے ساتھ کھڑے پورے تماش بین  ٹولے کا مشن پورا ہو جائے۔

شہزاد اپنی بہن کی حرکتوں اور باتوں سے بہت پریشان اور شرمندہ تھا کہ وہ کس طرح اپنا گھر برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے اور وہ کتنی نہ سمجھ ہے کہ اسے باپ اور چاچا لوگوں کی چالوں کی بلکل سمجھ نہیں ہے۔ وہ اس کو بہت سمجھاتا مگر وہ تھی کہ باپ اور چاچا کو خیرخواہ اور شہزاد کو دشمن گردانتی تھی۔ جس پر شہزاد کو بہت قاری ضرب لگتی کیوں کہ وہ بہنوں سے بہت محبت کرتا تھا اور اس انجام تک وہ عابدہ کی وجہ سے پہنچا تھا کہ عزیز کے گندے گھر سے نکال کر خاندان میں کھڑا کیا تھا مگر وہی عابدہ اس کے صفِ  اوّل دشمن بن چکی تھی اور دن رات اسے برباد کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ لیکن اس جاہل پگلی کو کبھی  اتنا سوچنے کی فرصت نہ ملی کہ آخر وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے اور رقیہ اور شہزاد سے اسے کیا دشمنی ہے؟ وہ اپنا گھر خوش بسا کر بھائی اور بھابھی کو خوش کیوں نہیں دیکھنا چاہتی۔تعلیم اور تربیت کی کمی کی وجہ سے اس نے کبھی اتنا نہ سوچا کہ آخر جس راستے پر وہ چل رہی ہے اس کا انجام کیا ہوگا؟  وہ بنا سوچے سمجھے انجام کی پروا کیےبغیر ان راستوں پر چلتی رہی جو اس کے باپ اور چاچا بنا بنا کر دکھاتے رہے۔دوسری طرف رقیہ اور شہزاد پوری دنیا سے بیضار ہو کر اپنی زندگی کی خوشیاں تلاش کرنے میں دن رات محنت میں لگے رہے۔ جب ان دونوں کو کسی بات پر دکھ ہوتا یا گزری باتوں پر رونا آتا تو ان کے پاس ایک دوسرے کے کندھے کے سوا کوئی ایسا کندھا نہ ہوتا جس پر سَر رکھ کر رُو سکیں۔اور نہ کوئی سہارا جو برے حالات میں ان کا ساتھ دے۔اس برے حالات میں ایک شخص کا ہاتھ ان دونوں کے سر پر تھا وہ تھا عبدالرحمٰن جو عابدہ  اور اپنے سسر کی ہر زیادتی اور پریشانی کو ایک طرف رکھ کر  ہر مشکل اور ہر مصیبت میں ایک باپ کی طرح  اپنا فرض نبھا رہا تھا  اور ان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔اور انہیں اکیلا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیتا۔ یوں وہ محنت کرتے رہے کچھ ہی عرصہ میں اللہ نے ان کی روزی میں برکت دی اورشہزاد کو ایک اورجگہ سے ایک اچھی نوکری کی آفر ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *