Episode 23

عبدالغفور سے یہ حقیقت ہضم نہ ہوئی اور وہ اپنی جگہ سے آگ بگولا ہو کراٹھا اور  عبدالرحمٰن منہ پہ  تھپڑ دے مارا۔اورزُور زُور سے گالیاں بکنے لگا۔لیکن عبدالرحمٰن نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور بس جواب میں اتنا کہا کہ میں لڑائی کرنے تو نہیں آیا تھا میںتو آیا تھا کہ آپ باپ بیٹا کی کسی طرح صلح ہو جائے لیکن آپ صرف ہمیں ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں میںیہ اچھی طرح جان گیا ہوں۔آپ نے تھپڑ مار دیا لیکن میں تھپڑ کا جواب تھپڑ سے نہیں دوں گا۔اس کے بعد اس نے عابدہ کو اسی وقت  طلاق دی اور کہا کہ باقی کی دو طلاقیں باقی عدت کے مطابق بھیج دونگا ۔یہ کہ کر وہ گھر واپس آ گیا۔لیکن بعد میں اس نے باقی کی دو طلاقیں نہ دیں اور چھٹی ختم ہونے کے بعد  واپس سعودی عرب آ گیا۔یوں  ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا عابدہ اپنے باپ کے گھر اور رقیہ اپنے خاوند کے گھر۔معاملات کچھ ٹھنڈے ہوتے دکھائی دیئے تو عبدالرحمٰن کے باپ نے سوچا کہ میں جا کر بات کرتا ہوں شاید اب تک عبدالغفور کا غصہ ٹھنڈا ہو گیاہوگا شاید کوئی میسر بات کرے اور صلح کا پہلونکلے۔وہ ایک بار پھر ملک اکرم کو اپنے ساتھ لے کر عبدالغفور کے گھر گیا ۔عبدالرحمٰن کے باپ نے کہا کہ پہلے تم اکیلےجا کر اس سے بات کرو میں باہر ٹھہرتا ہوں کہوکہ عبدالرحمٰن کا باپ معافی مانگنے آیا ہے اور اپنی بہوعابدہ کو اپنےساتھ لینے آیا ہے۔رہی ان کی بیٹی رقیہ اور شہزاد کی بات وہ آپ چاہوتو ان کو ان کا حق دو اگر نہ چاہو تو تمہاری مرضی ہم اس بات کی شرط نہیں رکھتے۔بس ہمیں ہماری بہو لوٹا دو۔ملک اکرم نے جب اندر جا کرعبدالغفور سے بات کی تو وہ چیخنے چلانے لگا اور ہر بات سے صاف انکار کر دیا۔یوں ملک اکرم ناکام لوٹا اور ساری بات بتائی کہ عبدالغفور ابھی بھی آگ بگولہ ہے وہ کسی بات پر آمادہ نہیں اس لیے آپ واپس چلے جائیں اس سے کوئی بات نہ کریں وہ کسی با ت پر اتفاق پر راضی نہیں ہے وہ آپ کو گالیاں دے گا اور بے عزت کرے گا۔تو عبدالرحمٰن کا باپ جو کی بہت دین دار اور پرہیزگار آدمی تھا اور مشکلات پر صبر کرنے والا تھا اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں زیادہ سے زیادہ وہ  مجھے گالیاں دے گا۔اس سے زیادہ کیا کرے گا۔ویسے تو میں رشتے میں اس کا ماموں لگتا ہوں اگر پھر بھیوہ کچھ غلط زبان استعمال کرے گا تو میں صبر کروں گا آپ بے فکر ہو کر مجھے اندر لے جائیں میں بات کرتا ہوں انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔یوں وہ اندر گئے چلے گئے ابھی سلام ہی نہیں کیا تھا کہ عبدالغفور نے انہیں دروازے پر آ لیا اونچی اونچی آواز میں گالیاں دینا شروع ہو گیا ۔کہنے لگا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ وَرنہ میں وہ حشر کروں گا کہ دنیا تماشا دیکھے گی۔عبدالرحمٰن کے باپ نے کہا بیٹا آپ جتنا مرضی غصہ اتار لیں مگر آپ اور میں بچوں کے باپ ہیں۔آپ کو حق ہے بولنے کا میں کوئی بات نہیں کرتا مگرمجھے اندر تو آنے  دیں میں آپ کی ہر بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جب آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو تب شاید کوئی بہتری کا حل نکلے۔میں اور کوئی بات نہیں کرتا۔رقیہ اور شہزاد کی بھی نہیں۔میں بس اپنی بہو عابدہ کو ساتھ لے جانے آیا ہوں۔عبدالغفور نے کہا کہ اب تمہارا اُس کے ساتھ کیا رشتہ باقی ہے جولینے آئے ہو۔اس نے کہا بیٹا ہمارے مذہب اسلام میں تین طلاق کا حکم ہے۔میرے بیٹے نے غصے میں آ کر صرف ایک طلاق دی تھی مگر بعد میں قرآن کے احکامات کے مطابق باقی کی دو طلاق نہیں دیں۔اس لیے وہ ابھی بھی میری بہو ہے میں اسے ساتھ لے جانے آیا ہوں آپ بس میرے بہو کو ساتھ بھیج دیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔تم اس بات سے بھی بے فکر ہو جاؤ کہ ہم اُسے تمہارے گھر آنے جانے سے روکیں گے یا اس پر کسی قسم کی پریشانیاں پیدا کریں گے۔ آُپ کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس شخص نے ایک نہ سنی اور جو منہ میں آئی زبان استعمال کرتا گیا۔جب عبدالرحمٰن کے باپ نے دیکھا کہ وہ کسی بھی بات پر آمادہ نہیں ہو رہا تو اس نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ بیٹی کا گھر نہیں بسانا چاہتے تو آپ جو چاہے فیصلہ کریںآپ کو پورا حق ہے۔ہم سے جتنا ہو سکا بڑا ہونے کے ناطے پورا حق ادا کیا۔آپ بس ایک مہربانی کر دیں کے ہماری بیٹی رقیہ کا سامان یہاں پڑا برباد ہو رہا ہے کوئی صاف کرنے والا نہیں پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔بہت مہنگا اور اچھا سامان ہے جس پر آپ کا کوئی حق بھی نہیں بنتا قبضہ کرنے کا وہ ہمیں اٹھانے دیں۔اگر آپ رشتے نہیں نبھانا چاہتے تو نہ سہی ہمیں ہماری بیٹی کا سامان واپس کر دو۔ عبدالغفور نے کہا ٹھیک ہے لے جاؤ اور آئندہ میرے سامنے مت آنا میں کسی کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔اس طرح  رقیہ کا باپ ایک ہارا ہوا باپ بن کر روتا ہوا  اپنی بیٹی  کا سامان اٹھا کر واپس لایا۔یوں شہزاد اور رقیہ ہر طرف سے ہارے ہوئے میاں بیوں بن کر رہ گئے جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنا گھر بسانا چاہتے تھے اور امن اور سکون کی زندگی جینا چاہتے تھے۔ پھر کچھ عرصہ بعدجب ملک فاروق اور عبدالغفورنے دیکھا کہ اس طرح تو ہم ہر طرح سے شکست خوردہ ہو گئے۔اپنی بیٹی کا گھر بھی برباد کے کر گھر بٹھایا ہواہے جس پر معاشرے کے طعنے بھی سہ رہے ہیں مگر رقیہ کو تو طلاق نہیں ہوئی اس طرح انہوں نے سوچا کہ کسی طرح عابدہ کی صلح کروا کراسے واپس اپنے گھر بھیجیں تا کہ معاملہ خاموش نہ ہو اور شہزاد،رقیہ اور اس کی فیملی کو سکھ کا سانس نہ ملے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *