Episode 22

اب یوں کچھ دن گزرے اور دونوں کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو شہزاد نے اپنی قوم کے ایک با اثر شخصملک اکرم سے رابطہ کیا جو عبدالغفور کی دوسری بیوی کا ماموں تھا اور عبدالغفور بھی اس کی بات نہیں ٹال سکتا  تھا تو  اس سے درخواست کی کہ میرے باپ سے بات کر کے رقیہ کا جہیز جس پر عبدالغفور نے قبضہ کیا ہرا ہے وہ واپسدلوا دے۔جب ملک اکرم نے بات کی تو  اس کے باپ نے اس کی بات نہ مانی اور سامان دینے سے صاف انکار کر دیا۔جب اس نے شہزاد کی موٹر سائیکل واپس کرنے کی بات کی تو اس نے  کہا یا تو مجھے وہ اس کی قیمت ادا کرے اور اگر قیمت نہیں دے گا تو میں اسے یہ موٹر سائیکل نہیں دوں گا جس کی قیمت بھی شہزاد نے پوری پوری ادا کی اپنے بات کواور  پھر اس نےموٹر سائیکل اس کو واپس ملی۔یوں کافی عرصہ رقیہ کا لاکھوں کا جہیزبرباد ہوتا رہا اور کسی نے اس کی دیکھ بھال نہ کی۔گھر کو تالے لگ گئے۔جب شہزاد نے دیکھا کے اب کسی صورت بھی صُلح کی صورتِ حال نہیں بن رہی تو اس نے بس یہی سوچا کہ سامان اٹھا کر باقی کی ساری زندگی ان سب سے دور گزاری جائے اور کبھی بھی ایسے شریر لوگوں کے پاس سے بھی نہیں گزرنا۔اس طرح  مزید شر سے بچا جائے اور لوگوں کو مزید تماشا نہ دکھایا جائے۔رقیہ کا بھائی اور عابدہ کا خاوند جس کا نام عبدالرحمٰن تھا وہ ان دِنوں سعودی عرب میں رہتا تھا۔ کچھ ہی مہینے بعد اسے چھٹی پر واپس پاکستان آنا تھا۔تو اس نے شہزاد اور رقیہ سے کہا کہ آپ لوگ میرا انتظار کریں اور کسی سے کوئی بات نہ کریں۔میں جب واپس آؤں گا تو میں اپنے سسر  عبدالغفور سے خود بات کروں گا مجھے یقین ہے وہ میری بات نہ ڈالے گا۔آخر میں اس کا داماد ہوں۔ اور میں آپ لوگوں کی آپس میں صلح بھی کراؤں گا۔یوں کچھ مہینے اور گزر گئے اور وہ پاکستان واپس آگیا۔ تو عابدہ کواپنے ساتھ لے کر اس کے باپ کے گھر گیا تاکہ وہ بیٹی کو دیکھ کر اس کی بات نہ ڈال سکے گا  اور اس سے بات کی اور  اسے سمجھایا کہ آپ بیٹے سے صلح کر لو اور نہ ہمیں  دنیا کے سامنے ذلیل کرو اور نہ خود تذلیل کا نشانہ بنو۔ہم شہزاد کو بھی سمجھائیں گے کہ آئندہ وہ آپ کے سامنے اچھی بری کوئی بات نہیں کرے گا۔ان سب باتوں سے پہلے ملک فاروق کو کانو کان یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ عبدالرحمٰن سعودی عرب سے واپس آئے گا تو وہ عبدالغفور اور اس کے بیٹے کی صلح کروائے گا۔تو اس نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عبدالغفور کے کان بھررکھے تھے کہ اب جب عبدالرحمٰن تمہارے گھر آئے گا تو تم اس کی کوئی بات نہ ماننا وہ تمہارا خیرخواہ بن کر نہیں آئے گا بلکہ اپنی بہن کی خاطر آئے گے۔جو گھر نہ ہونے کی وجہ سے در بَدّر دھکے کھا رہی ہے اسے بس اپنی بہن کی فکر ہے۔تو عبدالغفور بھی ہمیشہ کی طرح اس کی بات مان گیا اور اس نے بھی یہی سوچ رکھا تھا کہ اگر عبدالرحمٰن میرے گھر آتا ہے تو میں اس کو کھری کھری سناؤں گا۔اس لیے وہ  بہت غصے میں تھا ۔عبدالرحمٰن نے جب اس سے بات کی تو اس نے جواب دیا کہ یہ ہمارے باپ بیٹے کی لڑائی ہے تم کون ہوتے ہو ہمارے درمیانباتیں کرنے والے۔عبدالرحٰمن نے کہا کہ اگر وہ آپ کا بیٹا ہے تو آُپ چاہے اپنے بیٹے کو گولی مار دیں لیکن اس کے ساتھ ہماری بہن بھی ذلیل ہو رہی ہے۔آخر اس نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔آپ اس کی کوئی بات ہمیں بتا دیں جس پر آپ کو اعتراض ہو۔آپ ایسا تو نہ کریں کہ بیٹے کے ساتھ ہماری بیٹی کو بھی تذلیل کا نشانہ بنائیں اور اس کی گردن پر پاؤں نہ رکھیں۔آپ بڑے ہیں صبر اور بڑائی کا مظاہرہ کریں۔اور میں تو آپ کی بیٹے سے صلح کروانے آیا ہوں۔لوگوں کو مزید تماشا نہ دکھائیں آپ دونوں باپ بیٹا۔پہلے لوگ آپ لوگوں پر ہنس رہے ہیں مزید ہنسنے کا موقع نہ دیں۔میں مانتا ہوں آپ کو بیٹا پسند نہیں ہے مگر آپ ہمارا تو  خیال کریں اپنی باپ بیٹا کی لڑائی میں ہم لوگوں کو تو ذلیل نہ کریں۔لڑتے آپ دونوں باپ بیٹا ہیں اور آپ کہتے ہو کہ ہم لوگوں نے اور ہماری بہن نے آپ کے بیٹے کو آپ کے خلاف بھڑکایا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ ایسا نہ کریں اور صلح کر لیں لوگوں کو تماشہ نہ دیکھائیں اسی میں سب کی بہتری ہے۔آخر آپ کی بیٹی بھی ہمارے گھر ہے ہم دونوں گھرانے ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے اور آپ عابدہ سے بھی پوچھ سکتے ہیں میں نے اسے کوئی دکھ پہنچایا ہو تو۔عبدالغفور نے شدید غصے میں چلاتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں ہے چاہے تمہاری بہن بھی ذلیل ہو لیکنمیں شہزاد کو ذلیل کروں گا چاہے دَس سال کیوں کرنا پڑے۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ یہ تو پھر آپ سیدھا سیدھا ہمیں ذلیل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔جب ہم صلح کی بات کرتے ہیں تو آپ کہتے ہو وہ میرا بیٹا ہے میں لڑوں یا نہ لڑوں تم کون ہوتے ہو! اور جب ہماری بہن کی بات ہوتی ہے توآپ کہتے ہو چاہے تم ذلیل ہو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر آپ کا یہ آخری فیصلہ ہے تو پھر آپ بھی سن لیں آپ چاہے شہزاد کو گولی مار دُو وُہ آپ کا بیٹا ہے ہمارا کچھ نہیں لگتا۔لیکن اگر آپ باپ بیٹا ہماری بہن کو ذلیل کریں گے تو پھر لامحلاعابدہ کو ہم سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔پھر آپ دنیا میں شور نہ مچانا کہ میری بیٹی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔آپ خامخواہ بات کا بتنگڑ بنا کے صرف ہمیں زلیل کررہے ہیں۔عبدالغفور نے کہا کہ تم اسے آج ہی طلاق دے دو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن میں تمہاری بہن کو اور شہزاد کو ذلیل کروں گا۔اس نے گرجتی ہوئی آواز میں کہا کہ تم لوگوں نے شہزاد کو خراب کیا ہے تم لوگ شیطان ہو میں تمہاری بہن کے رشتے میں راضی نہیں تھا تم لوگوں نےزبردستی رشتہ کیا ہے تم لوگ تو شہزاد کو اپنی بہن کا رشتہ بھگا کر دینے کے لیے آمادہ تھے۔آخر تمہیں وہ اتنا اچھا کیوں لگتا ہے۔تمہاری بہن میرے بیٹے کے ساتھ پہلے سے پھنسی ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ۔پھر جو اس کے منہ میں آیا بولتا گیا اور ایک لمحے کے لیے کچھ نہ سوچا۔ تو عبدالرحمٰن کو بھی غصہ آیا جب وہ ان کی عزت پر حملے کرنے لگا تو  اس نے کہا کہ اگر آپ رشتے کرنے میں راضی ہی نہیں تھے تو عابدہ کا رشتہ عزیز والوں سے ٹوٹنے کے بعد ہمارے گھر کیوں آئے تھے کہ ہم تمہاری بیٹی کو بہو بنائیں گے ہم سے بھول ہو گئی اور پہلی زیادتی کی معافی دے دیں۔مگر ایک شرط ہے اگرتم عابدہ کا رشتہ بھی لو تو۔تا کہ اب اگر ہم آپ لوگوں کے ساتھ زیادتی کریں تو آپ بھی ہماری بیٹی کے ساتھ کر سکتے ہو۔تو ہم نے اپنا خاندان سمجھ کر آپ کوی پچھلی ساری باتیں بھی معاف کر دی تھیں اور خالص نیت سے رشتہ کیا کہ صبح کا بھولا اگر گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔اس حساب سے تو ہم نے زبر دستی نہیں بلکہ آپ نے زبردستی ہمیں اپنی بیٹی کا رشتہ دیا ہے۔جب آپ نے شہزاد کی منگنی توڑ دی تھی اس کے بعد ہم نے ایک لفظ بھی اپنے منہ سے ادا نہیں گیا اور قسمت سمجھ کر خاموش ہو گئے اور اس کے بعد ہم آپ کے پاس کبھی نہیں آئے بلکہ آپ لوگ کی آئے تھے جبکہ آپ کو سب پتہ تھا کہ  میں عابدہ کے ساتھ رشتہ میں راضی بھی نہیں تھا گھر والوں کے مجبور کرنے پر کہ اپنے رشتے دار ہیں کر لورِشتہ۔تو  میں نے ہاں کر دی۔ان سب کے باوجود ہم نے تو آپ کی بیٹی کو آج تک ذرا بھر دکھ نہیں دیا۔آپ کہتے ہو کہ ہم آپ کو نہر پر آ کر بہن دینا چاہتے تھے تو میرے خیال سے آپ غلطی کر رہے ہیں نہر پر ہم نہیں بلکہ آپ خود دینے  آئے تھے زبردستی اپنی بیٹی کا رشتہ مجھے ٹھوسنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *