Episode 21

یہ بات سنتے ہی اس کے باپ نے اٹھ کر اسے مارنا چاہا لیکن گھر والوں نے آگے بڑھ کر روک لیا۔اور اس کے بعد شہزاد وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے بعد جب شہزاد نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ اس کا باپ کیا چاہتا ہے اور وہ اس کا کتنا خیر خواہ ہے تو اس نے شہر میں مکان کی تلاش شروع کر دی کچھ ہی دنوں میں اس نے چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا اور وہ دونوں میاں، بیوی وہاں رہنے لگے۔ لیکن اس کے باپ اور چاچا کو یہ بات ہرگز برداشت نہ ہوئی اور وہ موقع کی تلاش میں تھے کہ کیسے ان دونوں کو ذلیل و خوار کیا جائے اب تو یہ ہمارے درمیان سے نکل کر دور چلے گئے۔اگر پاس رہتے تو کسی نہ کسی بہانے سے ان کو ستاتے رہتے۔اب تو شہزاد اور اسکی بیوی ایکیا دو ہفتوں بعد چھٹی والے دن اپنے  گھر کا چکر لگاتے اور ایک رات رہتے ہیں  پھر دوسرے دن واپس چلےجاتےہیں۔ وہ جب بھی آتے تو شہزاد کا باپ اسے ضرور کَھری کَھری سنا دیتا لیکن شہزاد بس یہی جواب دیتا کہ ابو ہم صرف روزی کمانے کے لیے شہر شفٹ ہوئے ہیں اس کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں آپ پریشان نہ ہوا کریں۔مگر اس کا باپ اس کی ایک نہ سنتا اور جتنا ممکن ہوتا اپنے غصے کا اظہار ضرور کرتا۔کیونکہ اس کے کان اس کے بھائی نے بھرے ہوتے تھے۔اور اس کا اگلا مقصد تھا شہزاد کو اس کی جائیداد سے بے دخل کروانا اور اس کے واپس اپنے گھر آنے سے روکنا۔

ایک دن جب وہ چھٹی والے دن گاؤں واپس آئے  تو شہزاد کی بڑی بہن خالدہ کی کسی بات پر اپنے گھر والوں سے لڑائی ہو گئی تو وہ ناراض ہو کر باپ کے گھر آ کر بیٹھ گئی جس پر اس کے باپ کے بہت غصہ آیا وہ یہ کہ کر باہر چلا گیا کہ میں جب باہر سے واپس گھر آؤں تو تم اپنے گھر چلی جاؤ ورنہ میں وہ حشر کروں گا جو سوچا بھی نہیں ہوگا۔ جس پر خالدہ اور زیادہ دکھ ہوا تو وہ اندر بیٹھ کر رو رہی تھی۔ان سب باتوں کا شہزاد کو مطلق علم نہ تھا۔جب وہ شام کو گھر پہنچا تو بہن کو روتا دیکھ کر گلے لگایا اور پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو تو اس نے بتایا کہ میں اور میرا خاوند  کسی دوست کی شادی پر تیار ہو کر جا رہے تھے کہ میرے سُسر نے آ کر خوب ڈانٹا بھی  اور جانے سے منع بھی کر دیا تو مجھے دکھ ہو اور میں ناراض ہو کر ابو کے گھر آ گئی۔میں تو اپنے خاوند کے ساتھ جا رہی تھی اگر وہ پہلے ہی منع کر دیتے تو میں تیار ہی نہ ہوتی اس طرح تیار کر کے بے عزت کیا  اور سب کے سامنے ڈانٹا اور باتیں سنائی اور پھر میرے خاوند نے بھی کوئی بات نہیں کی۔شہزاد ساری باتیں چپ کر کے سنتا رہا اور بہن کو رونے سے چپ کروایا اور کہا کہ تم فکر نہ کرو  اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔وہ ساری بات سمجھ گیا کہ بات اصل میں کوئی خاص نہیں ہے بس خالدہ نے اپنیبے عزتی محسوس کی تو ضد میں آ گئی۔ورنہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جس پر ناراض ہو کر گھر چھوڑا جائے۔اس نے بس یہی سوچا کہ ابھی رات ہو گئی ہے جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گاتو صبح اسے سمجھاؤں گا اور اسے گھر چھوڑ آؤں گا۔اتنے میں رات کے کھانے کا وقت ہو گیا اور اس کا باپ باہر سے واپس لوٹا تو اس نے خالدہ کو دیکھا اور چپ چاپ کھانا کھانے بیٹھ گیا اتنے میں خالدہ کی ساس خالدہ کو منانے آ گئی تو شہزاد کی جان میں جان آ گئی کہ چلو اس کی ساس اسے لے جائے گی اچھا ہو گیا بات ہی ختم۔ خالدہ کی ساس نے کہا کہ بیٹا چلو اپنے گھر میں لینے آئی ہوں تو خالدہ نے کہاساسو ماں اگر شادی پر نہیں بھیجنا تھا تو پہلے ہی بتا دیتےیوں سب کے سامنے بے عزت تو نہ کرتے۔بس اس کی اتنی سی بات کرنے کی دیر تھی کہ اس کا باپ کود کر میدان میں آ گیا اور کہنے لگا ابھی اسی وقت اٹھو اور ساس کے ساتھ اپنے گھر دفع ہو جاؤ کمینی عورت تمہیں شرم نہیں آتی اتنی سی بات پر بات کا بتنگڑ بنا کر منہ اٹھا کر یہاں چلی آئی۔ابھی جاتی ہو کہ دوں کان کے نیچے ایک کھینچ کے۔شہزاد نے کہا ابو بیٹیوں کوایسے نہیں بولتے۔اس نے انکار تو نہیں کیا جانے سے وہ جائے گی اپ اتنی فکر کیوں کر رہے ہیں۔ بس اتنیسی بات کرنے کی دیر تھی کہ باپ جو کہ پہلے ہی ملک فاروق کی سیٹی پڑھ کے بیٹھا تھا شہزاد کو جائیداد سے فارغ کرنے کے اور گھر سے بگھانے کے لیے۔ اٹھ کر شہزاد کو تھپڑ دے مارا کہ اب تم مجھے سمجھاؤ گے کہ میں نے کیسے بات کرنی ہے۔شہزاد نے کہا ابو میں سمجھا نہیں رہا لیکن وہ آپ کی بیٹی ہے مانا کہ اس نے بے وقوفی کی ہے لیکن اسے بھی احساس ہے آپ باپ ہو آپ تو ایسے بول رہے ہو جیسے اس نے طلاق لینے کی بات کر دی ہو۔بس پھر ہونا کیا تھا اس نے اٹھ کر شہزاد کو مارنا شروع کر دیا اور کافی دیر مارتا رہا شہزاد نے کہا کہ ابو اب تک میں نے آپ کی بہت برداشت کر لی ہیں اب آئیندہ نہیں کروں گا آخر تم چاہتے کیا ہومجھ سے ہر وقت جہاں موقع پاتے ہو ذلیلکرنے پر تلے ہو۔اتنے میں سب گھر والوں نے شہزاد کو چھڑا لیا اور شہزاد کو دھکے دیتے ہوئے گھر سے باہر لے گئیں اس کا باپ دھمکیاں لگانے لگا کہ اب اس چار دیواری میں قدم رکھا تو گولی مار دوں۔نکل جاؤ میرے گھر سے آج سے تمہارا میرا کوئی رشتہ نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ شہزاد نے غصہ میں اپنی بیوی کو کہا کے چلو رقیہ چلتے ہیں آج کے بعد باپ کا اپنا گھر بھی اور ہمارا گھر بھی اس کو مبارک ہو۔اللہ نے چاہا تو ہمیں بھی اپنا گھر دے گا لیکن آج کے بعد اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اس گھر میں شرارت کے سوا   کچھ نہیں ہے۔میں جب بھی اچھائی کی بات کرتا ہوں یہ دونوں بھائی اس کا اتنا تماشا کرتے ہیں جو سوچا نہیں ہوتا اور الٹا مجھے دنیا کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔اس نے باپ کے گھر کو ساری زندگی کے لیے خیر باد کہا اور بیوی کو لے کر ہمسایہ سے موٹر سائیکل لے کر شہر آگیا۔کیوں کہ شہزاد  کی اپنی موٹر سائیکل کی چابی بھی باپ نے اپنے پاس رکھ لی اور موٹر سائیکل پر قبضہ کر لیا۔کیوں کہ یہ موٹر سائیکل بھی اسی کی دی ہوئی تھی۔رقیہ کا سارا جہیز جو لاکھوں کی مالیت کا تھا وہ بھی وہاں گاؤں والے گھر میں رہ گیا اور اس نے اس پر بھی قبضہ جما لیا۔

“بچھڑ       کر       کارواں       سے       راہ       رواں       ایسا       ہوا       تنہا

تھکا          تنہا،          گِرا          تنہا،          اُٹھا          تنہا،          چَلا        تنہا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *