Episode 20

سب کھل کر سامنے آئے جب شہزاد چار پیسے کمانے گھر سے نکلا ۔ تَب سب رشتے ایک طرف ہو گئے اور شہزاد دوسری طرف۔ جو منہ پر بیٹا بیٹا اور بھائی بھائی کہتے  اور پیٹھ پر چھرا گھونپتےتھے سَب کھل کر ننگے ہو کر میدان میں اتر آئے۔ان کا یہ گمان کہ ان کے علاوہ شہزاد اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر وہ طرح طرح کی باتیں کر کے اس کو دن رات پریشان کرنے لگے تا کہ وہ نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھجائے۔ وہ ہر وقت ہنسی اڑاتے کہ پہلے تو، تُو کچھ نہیں کرتا تھا اَب رَن مُرید بن گیا ہے اس لیے دن رات ذلیل ہو رہا ہے ۔ شہزاد کا صرف ایک جواب ان سب کے منہ بند کر دیتا کہ اگر میں اپنے بیوی بچوں کے لیے محنت نہیں کروں گا تو میں آپ سب میں سے کس پر یقین کروں جومیرے ساتھ خیرخواہی کرنے والا ہو۔پھر وہ کہتا کہ آپ سب میری بیوی، اس کے ماں باپ کو  اور مجھے برباد کرنے پر تلے ہو۔جو میں اپنے جیتے جی کبھی نہیں ہونے دوں گا اس کےلیے چاہے مجھے مزدوری کیوں نہ کرنی پڑے مگر اپنی بیوی اور بچوں کے ہاتھ آپ لوگوں کے سامنے نہیں پھیلنے دونگا۔ بس یہی خداری ان میں سے کسی کو پسند نہیں تھی۔پھر ایک دن شہزاد نے اپنے باپ سے بات کی کہ ابو ہم لوگ شہر میں چھوٹا سا مکان لے کر وہاں رہنا چاہتے ہیں تا کہ وہاں رہ کر کوئی اچھے سے روزگار کی تلاش کر سکیں اور نوکری پر آنے جانے کے ہمیں بہت سفر کرنا پڑتا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔یہ بات سنتے ہی اس کا باپ اس پر ایسے برسا جیسےبھوکا شیر بکری پر۔یہاں تک کہ وہ اسے مارنے پر اتر آیا۔شہزاد نے کہا ابو اگر کوئی بیٹا کمانے کی بات کرتا ہے تو والدین کو بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا بیٹا آوارہ نہیں ہے الحمداللہ کمانے والا اور کام کرنے والا ہے اور ہر ماں باپ کو اسی وقت کا انتظار ہوتا ہے کہ ہمارا بیٹا کب جوان ہوگا جب وہ ہمارا سہارا بنے گا۔لیکن آپ پہلے باپ ہیں جو بیٹے کو کہتے ہیں مجھ سے لے کر کھاؤ اور کوئی کام نہ کرو۔ابو یہ میرے ساتھ بھلائی کا سوچ کر کہ رہے ہیںیا برائی کر رہے ہیں۔آج اگر مجھ میں کمانے کی عادت نہیں پڑیگی تو کل کیسے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالوں گا اور ان کی ضرورتیں پوری کروں گا۔اور میں جو کماؤں گا تو اکیلا تو نہیں کھاؤں گا آپ لوگ بھی تو میرے ساتھ ہو آپ کی خدمت بھی تو کروں گا۔اور آپ ہمیشہ مجھے اور میرے بیوی کو یہی سناتے رہتے ہیں کہ اگر تم وہ نہیں کروگے جو ہم کہیں گے تو میں جب چاہوں پیسہ روک دوں۔ابو آپ ہی بتاؤ کہ میں کیسے آپ کے بھروسے بیٹھ جاؤں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر۔کل کو اگر آپ نے بھی ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تو ہم کہاں سے کھائیں گے۔ابو آپ مجھے کچھ دیںیا نہ دیںیہ آپ کا اپنا فیصلہ ہو گا جس کا بدلہ میں اللہ پر چھوڑتا ہوں اوراس کا جواب کل قیامت والے دن آپ کو خود دینا ہو گا۔ اگر دیں گے تو آپ کی اچھائی ہے نہیں دیں گے تو میرا اپنے اللہ پر پورا یقین ہے اللہ مجھے وہاں سے دے گا جہاں سے آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔تب اس کے باپ کو بہت غصہ آیا کہ آج یہ مجھے آنکھ دکھاتا ہے۔وہ شدید غصے میں آگ بگولا ہو کر کہنے لگا اپنی زبان کو لگام دو میں تمہاری زبان کٹوا دوں گا۔شہزاد نے کہا ابو جو آپ کو اچھا لگے آپ کرگزریں اور میری فکر نہ کریں بلکہ میں تو دعا کروں گا کہ اے پروردِگار میرے باپ کو ہدایت دے اور اسے دونوں اولادوں میںانصاف کرنے والا بنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *