Episode 2

اور پھر کپاس کا موسم بہت ساری خوشیاں اور امیدیں ساتھ لے کر آتا تھاجب کسانوں کی جیبیں خالی ہوتی تھیں اور جب بھی گھر میں کوئی چیز خریدنے کی بات ہو تو گھر کا سربراہ یہی کہ کر ٹال دیتا کہ کپاس کی چنائی قریب ہے جیسے ہی کپاس بیچیں گے تو سب سے پہلے آپ کو ضرورت کی چیز ملے گی۔اور گھر میں گوشت پکانا تو دور کی بات سبزی بھی بڑی مشکل سے پکتی تھی ورنہ دال یا چٹنی وغیرہ سے یا گڑ وغیرہ کے ساتھ روٹی کھا کر گزارہ کیا جاتا تھا اور گلہ خشک ہونے کی صورت میں لسی کے چار گلاس پی لیے جاتے تھے جس سے پورا جسم سیر ہو جاتا اور ڈکار مار کر چار پائی سے نیچے اترنےکے فورا بعد سب لوگ   اپنے اپنے کام میں لگ جاتے تھے۔یوں مشکل کی گھڑی گزر جاتی اور آخر کار کپاس کی چنائی کا وقت آ ہی جاتا اور ہر طرف چنائی زور شور سے شروع ہو جاتی۔اورہر زمیندار کی جیب جس سے دَس روپے کا نوٹ نظر نہیں آتا تھا اب ہزاروں کے نوٹ نظر آتے۔اور سبزی اور فروٹوں والے چاچے  شاہرو   یا   چاچے گَرّڑ کی ہر طرف سے صدائیں آتی تھیں تازہ آلو لے لو، تازہ گوبھی لے لو، شکر کندی لے لو، تازہ کیلا لے لو، یہ صدا آنے کی دیر ہوتی کہ بچے اور عورتیں فوراََ  کمروں کا رخ کرتے جہاں انہوں نے اپنی اپنی کپاس کاحصہ رکھا ہوتا تھا ۔کوئی شاپر  میں لیے جا  رہا ہے اور جسے شاپر میسر نہیں وہ اپنے قمیص کے پلو میں ہی لے کر بھاگ رہا ہے کہ کہیں چاچا شاہرو     نکل ہی نہ جائے یا کوئی اور  ہم سے پہلے نہ خرید لے اور  فروٹ ختم نہ ہو جائیں۔اور عورتیں بیچاری باہر تو نہیں جا سکتی اس لیے اپنی کپاس بیچنے کے لیے کسی چھوٹے بچے کے ہاتھ بھیج دیتی اور ساتھ میں تلقین بھی فرما دیتی کہ آج کل کپاس کا یہ ریٹ چل رہا ہے جب چاچا شاہرو کپاس تولے تو دھیان سے دیکھنا کہیں بے ایمانی اور فراڈ نہ کر لے تب جب بچہ پیسے لے کر واپس آتا تو عورتوں کے منہ سے ہائے نکل جاتی کہ خدا کا کہر ہو اس چاچے شاہرو پر کہ اتنی ساری کپاس کے صرف یہی دس روپے دیئے ہیں۔پھر وہ بچے سے سختی سے پوچھتی کہ کہیں تم نے تو آدھے پیسے نہیں چھپا لیے پھر اس کے انکار کرتے ہی اس کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر دیکھ لیتی کہ کہیں جھوٹ تو نہیں بول رہا پھر اس کی جیب سے ایک یا دو روپے نکل ہی آتے تھے جس پر اسے اور زور دار جھٹکے کے ساتھ تھپڑ بھی رسید کر دیا جاتا اور ساتھ ہی وہ دوپٹہ سنبھالتے ہوئے دروازے کے اندر سے چاچے شاہرو کو آواز لگاتی کہ چاچا بچے کو کتنے پیسے دیئے تھے تب وہ بھی اس بی بی کی آواز پہچانتے ہوئے نام لے کر پیسے بتاتا اور تب بی بی کہتی کہ اتنی زیادہ کپاس کے بس اتنے سے پیسے؟ تب چاچا شاہرو کہتا بی بی کیا کریں آج کل منڈی میں کپاس کے حالات بہت خراب چل رہے ہیں جہاں کپاس 7 روپے کلو بکتی تھی آج کل 3 سے 4 روپے میں بڑی مشکل سے لیتے ہیں اور اگر اچھی ہو تو 6 روپے اور آپ کی تو کپاس کی حالت بھی بہت خراب تھی اس پر نمی لگی ہوئی تھی اور بہت سارا کچرا جسے پہلے ہم صاف کریں گے پھر جا کے منڈی میں بیچیں گے۔تب وہ عورت چپ ہو جاتی ۔اسی طرح پھر وقت آتا گھر گھر جا کر چوڑیاں بیچنے والی عورتوں کا وہ  دو سے تین بیبیاں ایک ساتھ رہتی اور جب کسی بستی میں پہنچتی تو سب الگ الگ گھر کو سنبھال لیتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *