Episode 19

اس نے کہا کہ بیوی تم اگر میرے برے حالات میں میرا ساتھ دو گی تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ انشاءاللہ میں بھی پوری ذمہ داری اور دل لگی سے محنت کروں گا اور آپ کو خوش رکھوں گا اس کے لیے مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے صرف سوکھی روٹی کھا کر بھی الحمداللہ کرنا تو میں کبھی بھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔رقیہ نے اسے ہر طرح سے تسلی دی مگر اس حجرت پر پھر بھی شہزاد کی ہاں میں ہاں نہ ملائی مگر چونکہ شہزاد اس گھر سے تنگ آ چکا تھا اس نے صرف اتنا کہا کہ ہم  لڑ کر یہاں سے نہیں اٹھ رہے ہم کوئی اچھی سی نوکری ڈھونڈ کر شہر منتقل ہو جائیں اور یہاں بھیآتے جاتے رہیں گے مگر چونکہ ہمیں کچھ کام دھندہ کرنا ہے تو ہمیںیہاں سے حجرت کرنی پڑے گی اور کسی شہر میں پڑاؤ ڈالنا پڑیگا۔

اس کے بعد شہزاد اللہ سے دن رات رُو رُو کر دعائیں مانگنے لگا کہ اے پروردِگار میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے رزق کے دہانے کھول دے اور میرے گھر والوں کو سیدھا راستہ دکھا اور ہمیں پرہیزگار اور متقی بنا۔ اے اللہ  ان لوگوں کو ہدایت دے اور مجھے اور میری بیوی اور میری اولاد کو ان کے شر سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ سنا ہے تو ایسا بادشاہ ہے جو صرف امیروں کو نہیں بلکہ غریبوں کو بھی پسند فرماتا ہے۔ اے پروردِگار مجھے سیدھا راستہ دکھا جس طرح تو نے اپنے نبیوں اور خاص بندوں کو دکھایا اگر تو مجھے راستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان طریک راستوں پر بھٹکتا رہوں گا اور میرے بیوی بچوں کو یہ لوگ ذلیل کریں گے۔ اے اللہ مجھے نیکوں کاروں کا سربراہ  بنااور مجھے ان لوگوں میں شامل کر جنہیں تو پسند کرتا ہے۔ اور میری دنیا اور آخرت سنوار دے۔میں اس دنیاءِ فانی میں تجھ سے اتنا زیادہ کچھ نہیں مانگتا بس اتنا دے کہ میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ تو ہمیں یوں ضائع نہیں کریگا۔ بس پھر ہونا کیا تھا اللہ نے فوراَ اُس کی دعا قبول کی اور اسے ایک پرائیویٹ سکول میں استاد کی نوکری مل گئی جس سے بہت کم تنخواہ ملتی تھی جس پر ان کا گزر بسر نہیں ہو پاتا اِتنے میں اللہ نے اسی سکول کی دوسری برانچ میں اس کی بیوی کےلیے بھی رزق کھول دیا اور اُسے بھی نوکری مل گئی۔یوں وُہ دونوں سکول میں پڑھانےلگے۔دُونوں نے محنت اور لگن سے کام کیا۔ وہ دونوں سخت سَردیوں میں روزانہ 20کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کےگاؤں سے شہر آتے اور پھر واپس چلے جاتے۔سخت مہنگائی کے سبب پیٹرول کے اخراجات اتنے ہوجاتے کہ جتنی ان کی تنخواہ تھی اتنا پیٹرول لگ جاتا۔ اس طرح انہوں نے سوچا کہ کوئی چھوٹا سا گھر شہر میں کرائے پر لے لیں تو ان اخراجات سے بچا جا سکتا ہے۔جو پیٹرول کے خرچ ہے اس کا ہم گھر لے لینگے اور باقی جو تھوڑا بہت بچے گا اس کا گھر کا خرچ۔ یہاں وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کےلیے دن رات پریشان تھے اور تدبیریں کر رہے تھے دوسری طرف ملک فاروق بھائی کے کان بھرتا  کہ اگر یہاں سے اٹھ کر دوسری جگہ چلے گئے تو ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔پھر ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔یہ تو اپنی کر کے کھانے کی سوچ رہے ہیں۔ کیوں نہ انہیں ابھی سے دبایا جائے تا کہ وہ ایک بار پھر ہمارے محتاج بن کر بیٹھ جائیں اور جو ہم دیں وہ  چپ چاپ لے لیں اور جب چاہیں پیسہ روک لیں تو ان کی رُوزی تَنگ ہو جائے اور تیسریچال اللہ چل رہا تھا جن سے وُہ سَب بے خبر تھے۔اللہ چاہتا تھا کہ سچ کو جھوٹ پر ظاہر کر دے اور ان لوگوں کے غرور کی قمر توڑکر رکھ دے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جائیداد اور پیسہ ساری عمر صرف انہی کے پاس رہے گا۔جو یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہی نے انہیں یہ سب دیا ہے اور دُوسروں کو بھی اللہ ہی دیتا ہے۔وہ جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے۔وہ زیادہ دے کر بھی آزماتا ہے اور دیا ہوا واپس لے کر بھی۔لیکن پھر وہی ہوااللہ کیتدبیر سب پر بھاری ہوئی اور سچ اور جھوٹ بے نقاب ہو گئے۔ پھر سارے کے سارے رشتے دنیا کی نظروں میں یوں کھل کر سامنے آئے جیسے رات پر صبح کا سورج۔جو 20 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی عزیز کے ساتھ کیے گئے ظلموں کے بعد بھی دنیا کے سامنے معزز اور سچے بنے پھرتے تھے۔اللہ نے ان کو بے نکاب کر کے اپنے پیاروں کو ان کا مقروع چہرہ صاف کر کے دکھا دیا تا کہ انہیں ان کےجنگل سے آزاد کر دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *