Episode 18

اگر آج میں کام پر نہیں نکلوں گا تو کل کو بیوی اور بچوں کو کیسے کما کر کھلاؤں گا بس اب شہزاد نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اب اسےیہاں نہیں رہنا ہے اور کسی سے بھی توقع نہیں کرنی ۔شاید اپنی بیوی کو اس ذلیل گھر سے نکال کر کہیں چھوٹا سا سکھ کا آشیانہ دے سکوں آخر میں گھر کا سرابراہ ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ اپنے بیوی بچوں کی کفالت کا ذمہ اٹھاؤں ورنہ باپ سے مزید اب ایک روپے کی امید نہیں رہی۔کب تک دوسروں کے سہارے جینا ہوگا۔ جب باپ کا چہرہ اچھے سے دیکھ لیا اور ہر طرح کی امیدیں ٹوٹ گئی تو اس نے یہ مشورہ اپنی بیوی سے کیا کہ اے بیوی اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ پر بھی ان کے رشتہ داروں نے سب سےپہلےظلم کے پہاڑ توڑ ے تھے تو جب وہ ان سب سے بیضار ہو گئے تھے تو انہوں نے وہ گھر چھوڑ دیا تھا اور مدینہ کی طرف حجرت کی تھی۔ جس کے بعد اللہ نے انہیں عزت بھی دی اور اچھا رزق بھی۔میں اللہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میرے گھر کا کوئی بھی  فرد تمہارا خیرخواہ نہیں ہے وہ تمہیں کبھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ وہ تمہیں کسی حال میں بھی بہو بیٹی نہیں گردانتے۔ اب مزید میں برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ میری وجہ سے ان لوگوں کے آگے بے بس لاچار سی ہو کر بے عزت ہوتی رہو آخر تنگ آ کر تمہارے منہ سے کوئی بات بھی نکل جائے گی جس سے  تمہارے اور میرے رشتے میں پھوٹ پڑ جائے گی اور تم ہر طرف سے ٹوٹ جاؤ گی۔ جس پر اس کی بیوی نے کہا نہیں شہزاد میں آپ کے لیے جان تک قربان کر سکتی ہوں آپ میرےسرتاج ہیں۔اب یہ صرف آپ کا گھرنہیں یہ اب میرا بھی گھر ہے ہم اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں  جائیں گے۔کیا آپ کے ماں باپ میرے ماں باپ نہیں ہیں؟میں سہ لوں گی اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو۔مگر  یہ وہ سوال تھا جس کا جواب شہزاد کے پاس نہیں تھا لیکن اس شخص کے پاس صرف اتنے الفاظ تھے کہ اللہ کی زمین بہت بڑی ہےجسے اللہ دے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے اللہ چھین لے تو اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ مجھے میرے اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ مجھے بھی پورا بھروسہ ہے اللہ پر مگر میں اس لیےیہاں سے حجرت پر راضی نہیں ہوں کہ سب رشتے دار مجھے ساری عمر جینے نہیں دیں گے کہ ہمارے بیٹے کو ہم سب سے جدا کر کے لے گئی۔ وہ ساری زندگی میرا تماشا اڑائیں گے اور میری تذلیل کریں گے۔ شہزاد نے کہا رقیہ کیا اب وہ ہماری عزت کرتے ہیں ؟ وہ تو ہمیں انسان تک نہیں سمجھتے ہم ان کے آگے چیونٹیاں ہیں کیوں کہ وہ سب ہم سے بڑے ہیں اور ان کے پاس سب کچھ ہے اور جس چیز سے میں ڈرتا ہوں وہ ہے عزت ۔میرے باپ  اورچاچا کو صرف لڑنے جھگڑنے کا پتہ ہے ان کو عزت کے مطلب کا پتہ نہیں ہے۔ کہ عزت کیا ہوتی ہے؟ وہ دونوں نہ دنیاوی تعلیم یافتہ ہیں نہ دینی۔ وہ صرف باتوں میں لوگوں کے آگے جھوڑے نہیں ہونا پسند کرتے باقی ان کےلیے مذہب، دین اور عزت کچھ معنی نہیں رکھتے۔وہ انا پرست لوگ ہیں اپنی انا میں وہ کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں تم ابھی نئی ہو تمہیں اندازہ نہیں ہے وہ کیسی ذہنیت کے مالک ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *