Episode 17

اب عابدہ کو جیسے وہ کہتے عابدہ بھی ویساہی کرتی اور اس کی نظر میں شہزاد سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ وہ لوگ اس کے ہمیشہ کسی نہ کسی بات میں الجھا کر شہزاد کا امتحان لینے کو کہتے جس پر وہ جھوٹی ثابت ہوتی تو شہزاد  سسرال کے سامنے شرمسار منہ لے کر بیٹھ جاتا۔ دوسری طرف باپ نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر شہزاد اور اسکی بیوی (رقیہ)کو بے عزت کرنا شروع کر دیا۔ حالات یہ پیدا ہو گئے کہ شہزاد کو اپنے باپ اور چاچا پر اتنا بھروسہ تک نہ رہا کہ اگر وہ بیوی کو اکیلا گھر چھوڑ کر کہیں روزی کی تلاش میں باہر جائے تو اس کاباپ اور چاچا مل کرکسی غیر مرد کو اس کے گھر گھسا کر  اس کی بیوی کی عزت کی دھجیاں اڑا نے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔اور رقیہ کا انجام بھی ویسا کرنا چاہیں گئے جیسا شہزاد کی ماں کے ساتھ کیا تھا ۔یا کسی بھی قسم کی بدنامی کا داغ اس کے دامن پر لگا کر اس کی زندگی کے ساتھ پھر وہی 20 سال پرانی یاد تازہ کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اور رہی بات روزی روٹی کمانے کی اب شہزاد کےاخراجات بھی بڑھ گئے تھے اور اسے یہ بھی فکر ستانے لگی تھی کہ اگر وہ کچھ کمائے گا نہیں تو آج ایک بیوی کا پیٹ پالنا ہے کل کو جب بچے ہو گئے تو ان کو کیسے پالے گا؟ ادھر باپ کی جائیداد کییہ صورتِ حال تھی کہ اس نے صرف اپنی جائیداد کا غیر معمولی حصہ شہزاد کے نام لگایا کہ اس زمین سے جو وصول ہوگا وہ شہزاد کا ہے۔ وہ حصہ بھی لوگوں کو دکھانے کے لیے تا کہ لوگ یہ نہ کہیں کے شادی کے بعد بھی عبدالغفور نے اپنے بڑے بیٹے کو کوئی جائیداد نہیں دی۔ حالانکہ حقیقتیہ تھی کہ وہ مانگنے پر بھی پیسے نہ دیتا۔ ابھی شادی کو چار مہینےہی گزرے تھے کہ شہزاد کی بیوی رقیہ کی طبعیت خراب رہنے لگی ایکدن اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا جو کہ نا قابلِ برداشت ہو گیا تو شہزاد نے کہا کہ تم شہر چلی جاؤ اپنے میکے تا کہ وہاں رہ کر اچھے ڈاکٹرز کو بھی چیک کروا سکو اور کچھ آرام بھی کر آؤ۔ شہزاد نے اسے ماں باپ کے گھر پہچا دیا اور اس وقت شہزاد کی جیب میں صرف اتنے پیسے تھے کہ جس سے ڈاکٹر کی فیس بھی ادا نہ ہوگی دوائی لینا تو دور کی بات۔تو شہزاد نے اپنے باپ سے کچھ پیسے مانگے تا کہ بیوی کا چیک اپ کروا سکے۔ تو اس کے باپ نے کہا کہ یہ سب ڈرامے کرتی ہے کوئی تکلیف نہیں ہے یہ تو شادی کر کے آئی ہی اس لیے ہے تا کہ ہمارا پیسا کھا سکے۔ اس کو تو صرف ہمارے پیسے سے غرض ہے وغیرہ وغیرہ۔ شہزاد نے کہا ابو اس کو تکلیف زیادہ ہے مسئلہ چھوٹا نہیں ہے مجھے چار سے پانچ ہزار تک چاہیے ہو سکتا ہے وہاں زیادہ لگ جائیں کیوں کہ آج کل ڈاکٹرز بھی بندے کا خون چوس لیتے ہیں۔ تو اس کے باپ نے پیسے دینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ اس کے پاس اس وقت دَس لاکھ روپے موجود تھے مگر اس نے صرف ایک ہزار دیا وہ بھی رقیہ پر ہزار باتیں کرنے کے بعد جس سے شہزاد کو بہت زیادہ دکھ ہوا کہ باپ ہو کر میری بیوی اور بیٹےکاخیر خواہ نہیں ہے آج اگر وہ مربھی جائے تو اسے کچھ احساس نہیں۔ جس سے شہزاد کے دل پر بہت قاری ضرب پڑی اور اس کے دل میں باپ سےجو توقعات تھی سب ختم ہوگئی لیکن پھر بھی چپ رہا اور چپ چاپ یہ باتیں برداشت کرتا رہا۔ اور رقیہ کا سارا علاج اس کے ماں باپ نے کروایا جس پر بہت زیادا خرچ ہوا۔لیکن شہزاد کا باپ صبح شام یہی سناتا کہ اگر تم اور تمہاری بیوی نے میرے اور میرے بھائی فاروق کے جوتے کے تلوے نہ چاٹے تو میں جائیداد کا برائے نام حصہ دے رہا ہوں وہ پیسہ بھی روک لوں گا۔ اب شہزاد  اور رقیہ کے راستے ہر طرف سے بند ہو گئے۔ایک طرف سے شہزاد کا باپ ان دونوں کو ذلیل کرتا تو دوسری طرف عابدہ ان کے کہنے پر گھر میں نِت نئے ڈرامے لگاتی جس سے شہزاد اور اس کی بیوی کی نیندیں اڑ گئی اور ہر طرف سے نفرت کے پہاڑ ان دونوں کا صبح شام خیر مقدم کرنے لگے۔شہزاد کی پڑھائی تو پہلے کی عابدہ کی رشتوں کے تنازعات میں رک گئی تھی اور باپ نے مزید پڑھانے سے روک دیا تھا۔روزی سے تنگ آ کر شہزاد نے سوچا کہ اب یہاں رہنا مشکل ہو گیا اب بہتر ہوگا کہ ان لوگوں کے سامنے مزیدبے عزت اور ذلیل ہونے سے کہیں دور چلے جائیں تا کہ اپنا مستقبل اچھا بنا سکیں۔ اس وقت شہزاد کی عمر ابھی اکیس سال کی تھی تب شہزاد نے سوچا کہ یہاں رہ کر ہر بات پر ذلیل ہونے سے بہتر ہے تھوڑا کھا کر سکوں سے رہا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *