Episode 16

شہزاد ان کی یہ چال اچھی طرح سمجھتا تھا مگر کیا کرتا  باپ سے لڑتا یا چاچا سے؟ اور اب لڑنے کا کوئی مقصد بھی تو نہیں تھا۔دونوں ایسے رشتے تھے جس کا احترام فرض تھا وہ سوائے چپ رہ کر ان لوگوں کی چالوں  کو دیکھنے کے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا جس پر شہزاد ہمیشہ کُڑہتا رہتا تھا کہ میرے باپ کے پاس اللہ کا دیاہوا سب کچھ ہے پھر بھی وہ اپنے بھائی کے کہنے پر اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے وہ کیوں اُس کیشاطرانہ چالوں کو  نہیں سمجھتا۔یا اگر سمجھتا ہے تو پھر جان بوجھ کر ہم سے کس بات کا بدلہ لے رہا ہے۔آخر ہم نے اس کا کیا بگاڑا ہے۔آخر کیوں بھائی کے کہنے پر نقصان پر نقصان کرتا جا رہا ہے۔آخر کب سمجھے گا ایسے شریر انسان کی چالوں کو۔جس نے ہمارے گھر میں پچھلے بیس سال سے  آگ لگا رکھی ہے۔شہزاد سب سمجھتا تھا کہ اس کا باپ دل کا برا انسان نہیں ہے مگر اس کو اس کا بھائی خراب کر رہا ہے جو اُسے اپنے مقصد کے لیے ہمیشہ سے استعمال کرتا آیا ہے۔ مگر شہزاد کیا کرسکتا تھا۔کیا باپ کو کہتا تھا آپ کا بھائی ہم لوگوں کو لڑوا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو اس کے باپ کو قطعً برداشت نہیں تھی۔ کیونکہ اس کے دل میں صرف ایک ہی بات بیٹھی تھی کہ وہ اسکا بڑا بھائی ہے اور بھائی کبھی دشمن نہیں ہوتا۔وہ بڑا ہونے کے ناطے اس سے جو بھی کہتا  عبدالغفور اُسے ثواب سمجھ کر کرتا تھا۔ کیونکہ وہ نیت کا صاف تھا اس لیے اسے بھی سب نیت کے صاف دکھائی دیتے تھے۔

خیر وقت آ گیا عابدہ اور شہزاد کی شادی کا۔ ویسے تو ملک عبدالغفور  شہزاد کے ننیال کے گھر آتا جاتا تھا کیوں کہ اب پرانی دشمنی کو ب20 سال گزر چکے تھے اور مگر اس نے شہزاد  اور عابدہ کی شادی پر ان کے ننیال کو نہیں بلایا۔ شہزاداور عابدہ کی شادی ایسے کی  جیسے کسی کی بارات نہیں بلکہ  جنازہ نکلاہو۔اس طرح ان دونوں بہن بھائیوں کی شادی ایک ہی گھر میں ہو گئی۔ اب کیونکہ عزیز والوں سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد فاروق اور عبدالغفور عابدہ کا ذہن  شہزاد کے خلاف بری طرح خراب کر چکے تھے کہ شہزاد تمہارا خیر خواہ نہیں ہے اور نہ تمہاری خوشی نہیں چاہتا۔ اس نے تمہارا پہلا گھر بھی برباد کر کے لوگوں کے سامنے تماشا بنایا  اور اب بھی دیکھنا تمہارے لیے کچھ نہیں کرے گا۔چاہے سسرال والے جتنی بھی زیادتی کر لیں تمہارے ساتھ یہ اپنی بیوی کو کچھ نہیں کہے گا وغیرہ غیرہ۔ اب عابدہ کا ذہن بھی شہزاد کے مخالف کھڑا ہو گیا کہ واقعی بھائی شہزاد اپنی بیوی کو کبھی کچھ نہیں کہے گا۔ اب فاروق ،عبدالغفور اور ان کی بیویاں مل کر عابدہ کا گھر برباد کرنے کے لیے دن رات اس کے کان بھرنے میں لگ گئے کہ بھائی تمہاری طرف سے کچھ نہیں بولے گا اپنے سسرال کو۔ اس بیچاری کے دماغ میں ایکیہی بات گھر کر گئی جس سے نکلنے کے لیے اس کے پاس نہ عقل تھی نہ وقت کہ اس دقیا نوس سوچ سے باہر نکل کر یہی سوچے کے آخر میں اس سے کیا قربانی لینا چاہتی ہوں؟ اگر میں اپنے گھر میں خوش ہوں گی تو بھائی اور بھابھی بھی خوش رہیں گے۔ بلکہ پہلے دن سے اسے یہ لگنے لگا کہ بس میرے ساتھ سسرال میں سے کوئی خیرخواہی نہیں کرے گااور اب وہ اس مشن کےلیے دن رات کوشش کرتی کہ میں گھر میں ایسی ایسی باتیں کروں گی جو باتیں میرے سسرال اور میرے خاوند کو پسند نہ ہوں گی تا کہ وہ میرے ساتھ الجھیں اور پھر میںیہ جان سکوں کہ کیا واقعی میرا بھائی میری طرف داری کرتا ہے یا نہیں۔ یہ احمقانہ سوچ اس کے گھر میں کبھی خوشیاں نہیں لا سکی۔ ایک پر ایک بات کرتی گئی اور گھر میں عزت کھوتی گئی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی فریاد بھاگ بھاگ کر اور بڑھا چڑھا کر شہزاد سے اور اپنے میکے والوں کو کرتی تا کہ شہزاد کو آزما سکےکہ وہ کیا کہتا ہے اس طرح شہزاد اس کی باتیں سنتا اور جب وہی باتیں اپنے سسرال اور عابدہ کہ آمنے سامنے کرتا تو وہ اچھی طرح جان لیتا کہ ان باتوں میں عابدہ جھوٹی اور مکاری کر رہی ہے جس پر اسے اپنے سسرال سے بہت شرمندگی کا سامنا ہوتا۔ اس طرح عابدہ کی زندگی کا مقصد شہزاد کے لیے ہر دن نئی آزمائش لانا بن گیا۔ایک طرف وہ اس طرح  امتحانوں میں پھنسا رہا تو  دوسری طرف اس کے باپ نے بھائی فاروق کے کہنے پر اس کے ہر طرف سے  گھیرے تنگ کرنا شروع کر دیئے۔وہ عابدہ کی ذہانت کو اچھی طرح جانچ گئے تھے کہ وہ بھی گھر بسانے کا ارادہ نہیں رکھتی  اوہ جیسا وہ کہیں گے ویسا کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *