Episode 15

آپ بہت اچھے اور نیک لوگ ہیں اس لیے اگر  آپ لوگ اس کے حالات بہتر ہونے کا انتظار کر سکتے ہیں تو ایک دُو سال انتظارکریں۔یہ آپ کااحسان ہو گا۔

جس پر ملک رفیق اور اس کی بیوی نے کہا کہ آپ تسلی رکھیں ہم سب جانتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور رشتہ کریں گے۔اس کے بعد شہزاد کی پھوپھی ان رفیق کی بیوی کے لے کر شہزاد کے سسرال جاتی ہے اور شہزاد کی ساری پریشانیاں ان کو سناتی ہے اور اپنے بھائی کہ زیادتی پر معافی مانگتی ہے۔اور انہیںیہی کہتی ہے کہ ہم آپ لوگوں سے رشتہ داری ضرور کریں گے آپ لوگ مایوس نہ ہوں۔شہزاد آپ لوگوں سے رشتہ کرنے پر راضی ہے۔مگر ابھی شہزاد اور اس کے باپ کی آپس میں چپکلس چل رہی ہے آپ لوگ ہمارا انتظار کریں۔تو وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جو اللہ کو منظور ہو گا اب ہم کچھ نہیں کہ سکتے۔اب چونکہ وہ پہلے سے ہی بہت قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں تو شہزاد بھی اس چیز میں عار محسوس نہیں کرتا کہ ان کے پاس اپنے باپ کے رویے کی معافی مانگنے چلا جائے۔ اور ان کو دلاسہ دے کہ آپ فکر نہ کریں ہم آپ سے رشتہ داری ضرور کریں گے۔ بس آپ کچھ عرصہ ہمارا ساتھ دیں اور انتظار کریں۔سب معاملات انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔جس پر سب اس کے ساتھ احسن انداز سے پیش آتے ہیں اور اسے حوصلہ دیتے ہیں۔پھر وہ واپس آتا ہے اور اپنی پھوپھی کے گھر رہنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کا باپ اس پر بہت ناراض ہوتا ہے کہ اس نے عزیز والوں کو رشتہ کا جواب کیسے دے دیا اور شہزاد کو دھمکی بھی لگا چکا ہوتا ہے کہ اب اس گھر میں قدم نہ رکھنا۔تو شہزاد مناسب سمجھتا ہے کہ ابھی باپ کے سامنے نہ جائے ورنہ باپ ضرور الجھے گا اور لوگ خواہ مخواہ تماشا دیکھیں گے۔ تو وہ سمجھتا ہے کہ کچھ عرصہ الگ رہ کر معاملات کو معمول پر آنے دیا جائے۔کیونکہ ادھر سے اس کا باپ بھی شدید غصہ کا اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ اب اسے میں سبق سکھاؤں گا اور گھر نہیں آنے دونگا وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ تب تک گھر نہ جائے تو بہتر ہوگا۔ یوں کچھ عرصہ وہ پھوپھی کے گھر گزارتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی پھوپھی کو دوبارہ  ملک رفیق کے پاس بھیجتا ہے تا کہ وہ آئیں اور باپ کو سمجھائیں اور ہم دونوں باپ بیٹے کی صلح کروائیں۔تو ملک رفیق اور اس کا بڑا بھائی  دونوں شہزاد کو ساتھ لے کر جاتے ہیں اس کے باپ کے گھر اور وہ باپ سے معافی مانگتا ہے اور باپ بھی چپ ہو جاتا ہے۔ مگر باپ اور چاچا کے دل میں بدلے کی آگ جل رہی ہوتی ہے۔ انہی دنوں شہزاد ایک اور بات بھی محسوس کرتا ہے کہ عابدہ بھی عزیز والوں کے گھر خوش تھی رشتہ میں جس کے اسے مطلق علم نہ تھا۔اور عابدہ جو کہ پڑھی لکھی نہیں ہوتی  جسے اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے باپ چاچا کی طرف سے  اُس کی عزیز کے گھر رضا مندی کی وجہ صرف لڑکے کی شکل  خوبصورتی تھی کیونکہ اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ لوگ شراب اور جوا کھیلتے ہیں اور وہ کیسے لوگ ہیں۔ اگر عابدہ تعلیلمیافتہ ہوتی تو آنے والے وقت کی نزاکت کو سمجھتی۔مگر یوں عابدہ بھی حالات کو نہ بھانپ سکی اور شہزاد کے بارے میں الٹا گمان کیا کہ اس نے اس کے ساتھ بھلائی نہیں بلکہ برائی کی ہے۔کیونکہ جتنا عرصہ شہزاد پھوپھی کہ گھر رہا  اتنے دن میں وہ دوں باپ اور چاچا اس کی ذہن سازی کر چکے تھے کہ شہزاد یہ سب اپنے رشتہ کی خاطر کر رہا ہے اسے تمہاری پروہ تھوڑی ہے۔اس نہ سمجھ نے بھی ان کی بات کو صحیح سمجھا اور بھائی سے ناراض ناراض رہنے لگی۔اس کو  اتنی سی بات سمجھ نہ آئی کہ اگر وہ میرے رشتے میںیہ سب نہیں بھی کرتا تو بھی اس کا رشتہ تو ہو رہا تھا۔لیکن شہزادنے تواپنی پڑھائی اور اپنی سارا مستقبل اس کے لیے داؤ پر لگا دیا۔وہ تو اپنے آنے والے کل کی فکر نہ کرتے ہوئے چاچا  اور ابو کے ساتھ اپنے انجام کی پروہ نہ کرتے ہوئے  آڑ بن کر ڈٹ گیا۔ کہ کل دیر سے رونے سے بہتر ہے آج ہی رو کر سب معاملات سنبھال لیے جائیں مگر اس کے ابو اس کی بات نہ سمجھے اور خواہ مخواہ کی انا پرستی انہیں بیٹے کا مخالف بنا گئی۔ پھر دونوں بھائی نے سوچا کہ اب کیا کیا جائے کہ جس سے ملک شفعی ،شہزاد اور اس کے سسرال سے بدلہ لیا جائے۔شہزاد کے سسرال کے بدلہ صرف اس بات کا لیا جائے کہ اب بھی شہزاد کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں۔ تب اُن دونوں کے دل میں ایک بھیانک چال آئی کہ شہزاد کا رشتہ اسی گھر میں کر دیتے ہیں جہاں پہلے کر رہے تھے مگر ساتھ ہی ہم ایک مانگ رکھتے ہیں وہ یہ کہ عابدہ کا رشتہ بھی وہ لیں۔ ان کی اس چال کو کوئی نہ سمجھ سکا اور شہزاد کے سُسرال بھی نہ سمجھے الٹا وہ بھی کہنے لگے کہ شہزاد نے خواہ مخواہ باپ سے ٹکر لی۔دیکھو اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی اس کا باپ اس کی مرضی کے مطابق رشتہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔اور وہ  عابدہ اور شہزاد کے ساتھ رشتہ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔اس طرح ملک فاروق پیچھے ہٹ گیااور اس نے  لوگوں کو دکھانے کے لیے عبدالغفور کے گھر آنا جانا بند کر دیا تا کہ لوگوں کو لگے کہ  میں بھائی اور بھتیجے سے ناراض ہوں مگر حقیقت میں وہ بھائی سے ناراض نہیں تھا بلکہ سارے پلان بنا بنا کے وہی اس کو دے رہا تھا۔وہ صرف شہزاد سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور اس کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار اس کا بھائی تھا جو اس کے ہر حکم پر سر جھکا دیتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *