Episode 14

یہ ان دنوں کی بات ہے جب عابدہ کے رشتے کی بات چل رہی تھی تو  ساتھ ہی شہزاد کے رشتے کی بات بھی  عبدالغفور کی خالہ کے گھر ہی چل رہی تھی جنہوں نے خالدہ کا رشتہ مانگا تھا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب گھر میںیہی باتیں ہو رہی تھیں شہزاد اور عابدہ کی منگنی ایک ساتھ کریں گے۔ایک دن عابدہ کی منگنی اور دوسرے دن شہزاد کی۔اور دوسرے ہی دن شہزاد اور عابدہ کی منگنی تھی۔سب تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔

شہزاد اپنے رشتہ میں تو راضی تھا کیوں کہ جس گھر سے وہ رشتہ کر رہا تھا وہ بہت نیک اور عزت دار گھرانہ تھا۔اب  شہزاد کو کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ کیا کرے۔۔!  اس کو دنیا گھومتی ہوئی دکھائی دی رہی تھی اور باپ کا اتنا بے حس چہرہ دیکھ کر وہ پتھر کا بُت بن کر رہ گیا۔ وہ اٹھا اور خالدہ بہن کے گھر چلا گیا اور وہاں جا کر رونے لگا کہ بہنو مجھے ماف کر دینا میں آپ کیمرتبہ بھی کچھ نہیں کر پایا تھا اور اب عابدہ کی دفعہ بھی کچھ نہیں کر پا رہا۔میں آپ دونوں بہنوں سے شرمسار ہوں مجھے معاف کرنا۔وہ دونوں بہن بھائی بیٹھے رو رہے تھے کہ اتنے میں خالدہ کا سُسر اور اس کا بھائی کمرے میں داخل ہوئے ۔انہوں نے روتا دیکھ کردونوں کے  سر پر ہاتھ پھیرا اور سب ماجرہ سنا کہ کیوں رو رہے ہو؟  کیا ہواہے؟ جس پر شہزاد اور خالدہ نے سب کچھ بتایا  اور عزیز والوں کے حالات بھی کہ سنائے کہ وہ ایسے لوگ ہیں تو خالدہ کا سُسر بولا بیٹا آپ پریشان نہ ہوں ہم دونوں آپ کے باپ سے بات کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائے۔ تم بیٹھو ہم گھر کا کام ختم کر کے تمہارے باپ کے پاس جاتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے کام پر چلے گئے اتنے میں  خالدہ اور شہزاد کا باپ وہاں آ پہنچا اور اس نے کہا کہ تم لوگ اپنی زبان پر تالا لگا لو ورنہ وہ حشر کروں گا کہ دنیا تماشا دیکھے گی۔اور ساتھ ہی شہزاد کے سُسرال کو فون کر کے گرج کر بولا کہ کل ہم شہزاد  کی منگنی کی رَسم کرنے آنے والے تھے لیکن اب ہمارا شہزاد کے رشتہ سے انکار ہے۔ہم تم لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں کریں گے۔تم لوگوں نے ہی شہزاد  کو ہمارے خلاف بھڑکایا ہے۔ وہ لوگ جو منگنی کی تیاریوں میں مصروف تھے ہکے بکے رہ گئے کہ آخر اچانک ایسا کیا ہو گیا کل تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا۔وہ یہ بات سن کر چکرا گئے۔اس طرح عبدالغفور نے اپنی غلطیاں شہزاد کے سسرال پر تھوپ دیں اور اپنے آپ کو نیک پاک جاننے لگا۔ اس کے بعد  ان کاباپ  غصے سے گھر واپس چلا گیا۔ جس کے بعد شہزاد نے بھی سر پر کفن باندھ لیا کہ اب میرا رشتہ تو جو ٹوٹنا تھا وہ ٹوٹ چکا  لیکن اب عابدہ کا رشتہ بھی میں وہاں نہیں ہونے دوں گا۔ وہ وہاں سے اٹھا اور سیدھا عزیز والوں کے گھر پہنچا۔ اس نے ان سے جا کر پاؤں پر ہاتھ رکھ کر ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی مانگ کر صرف اتنا کہا کہ اگر آپ لوگ ملک فاروق سے رشتہ داری کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کریں ۔مگر میں آپ لوگوں سے اپنی بہن کے معاملے میں معافی مانگنے آیا ہوں کہ ہم اس کا رشتہ نہیں کریں گے۔ تب انہوں نے پوچا کہ بیٹا آپ ایسا کیوں کر رہے ہو اگر ایسی بات تھی تو آپ پہلے بتا دیتے ۔شہزارد رونے لگا تو ان لوگوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور حوصلہ دیا۔ اس نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں میری ماں مر چکی ہے اور میرا باپ ہم لوگوں کو اندھے کنویں میں دھکیل کرخود دوسری بیوی اور اولاد کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس لیے بہنوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ہوگی کیوں کہ بڑا بھائی میں ہوں۔میں چاہتاہوں کہ میری بڑی بہن بھی خاندان میں ہے اور میری چھوٹی بہن کا رشتہ بھی خاندان میں ہی ہو۔میں اپنی  بہن کا رشتہ خاندان سے باہر کرنے کے بالکل حق میں نہیں ہوں۔جس پر عزیز نے کہا کہ تم یہ بات پہلے طے کر لیتے اب ہم رشتہ پکا کر چکے ہیں اب رشتہ ہوگا۔جس پر شہزاد نے کہا کہ چاچو یہاں آنے سے پہلے آپ میں نے سوچا تھا کہ شاید میں آپ لوگوں سے بات کروں گا تو آپ لوگ غصے میں آ جائیں گے کیونکہ دوسرسے ہی دن آپ لوگو منگنی کرنے والے ہیں۔مگر آپ لوگوں کی شفقت دیکھ کر میں نہیں چاہوں گا کہ آپ کو حقیقت سے آگاہ نہ کر کے اپنے سینے پر بوجھ لے کر جاؤں اور یہ کہ اگر آپ سیدھی بات ہی سننا چاہتے ہیں تو سنو جس شخص کو آپ لوگ اپنی بیٹی دے رہے ہو وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے۔اس کی ساری ریپورٹس لے کر پڑھ لو پہلے۔یہ بات میرے باپ کو بھی معلوم ہے بلکہ میرے باپ ہی نے مجھے بتائی ہیں۔اگر اس کے اولاد نہیں ہوگی تو ضرور آپ لوگ کہیں گے کہ ہم سے دھوکا ہوا ہے تم تو کہتے تھے میں ٹھیک ہوں میری بیوی اولاد کے قابل نہیں ہے۔اور بعد میں آپ لوگ کل کو اس شخص کی وجہ سے میری بہن کو پریشان کرو تو میں اس نوبت سے ڈرتا ہوں۔ شہزاد نے کہا میں نے بات صاف صاف کہ دی ہے تا کہ آپ لوگ بھی کسی دھوکے میں نہ رہو اور آپ کی بیٹی کی زندگی برباد نہ ہو  اب آگے آپ لوگوں کی مرضی اگر اب بھی رشتہ کرنا ہے  ملک فاروق سے تو کرو مجھے آپ کی بیٹی کے معاملے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن میری بہن دینے سے میرا صاف انکار ہے بے شک آپ لوگوں کو برا لگے تو مجھے جوتے مار سکتےہیں میں برا نہیں مانوں گا آپ لوگوں کے ساتھ میں زیادتی کر رہا ہوں۔جس پر عزیز  اور اس کی فیملی  چپ ہو گئے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے۔جس کے بعد انہوں نے اپنی بیٹی دینے سے بھی انکار کر دیا۔شہزاد وہاں سے نکلااور پھوپھی کے گھر چلا گیا۔اس نے پھوپھی کو اپنے رشتہ داروں کے گھر بھیجا جو کہ رشتہ میں عبدالغفور  کے خالہ کے بیٹا تھا جس کا نام رفیق تھا۔ اور وہ شہزاد کی بڑی سالی کا خاوندبھی تھا۔ وہ دونوں  ملک رفیق اور اس کی بیوی کے پاس گئے اور ان سے باپ کی طرف سے کی گئی زیادتی کی معافی مانگی اور کہا کہ آپ اپنے سسرال کو ایک پیغام دیںکے شہزاد آپ لوگوں سے رشتہ ضرور کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *