Episode 13

اور اس کی یہ بات کرنے کے فوراً  بعد شہزاد کا باپ بھی یہی بات دہراتا ہے کہ ہم ان سے چکلے چلوائیں گے تم کون ہوتے ہو ہمارے سامنے بولنے والے۔ باپ کی آواز کانوں میں پہنچتےہی شہزاد کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے اور اس کو چکر آنے لگتےہیں کہ ایک باپ اپنی بیٹیوں کے بارے میں ایسا کہ رہا ہے۔ یہ بات سننے سے پہلے اسے موت کیوں نہیں آئی۔آسمان کیوں نہیں پھٹا یا اسے زمین نے کیوں نہیں نگلا۔شہزاد ایک لمبی سانس لیتا ہے اور غصے میں آ کر اپنے چاچا کو مخاطب کر کے صرف ایک ہی بات کہتا ہے کہ اگر تمہارے دل میں میری بہنوں کے لیےیہ عزت ہے اور تم ایسا کہ ارادہ رکھتے ہو تو ایک بات میری بھی سن رکھو جس دن تم اس نوبت کو پہنچو گے اس دن میری تم سے آخری بات ہوگی۔ میں تو تمہیں اپنے باپ سے زیادہ عزت دیتا تھا کہ تمہاری اولاد نہیں ہے۔میں نے ہر معاملے میں اولاد کی طرح فرض نبھایا مگر تمہارے دل میں ہماری ماں اور نانا شفیع سے بدلہ کی آگ اتنی آگے تک لگی ہوئی ہے کہ تم ہم لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے میں لگے ہو۔ اور پھر باپ سے مخاطب ہو کر بولاابو ساری دنیا ایسی باتیں کرتی لیکن آپ کو یہ باتیں ذیب نہیں دیتیں کہ اتنی تیش میں آ جاؤ اور اپنی اولاد کےلیے ایسے لفظ غیر لوگوں کے سامنے استعمال کرو۔ میرا دوست کیا سوچے گا؟کس چیز نے اتنا مجبور کر رکھا ہے چاچا فاروق کے آگے اتنا جھک کر رہنے کو؟  اسےکے بعد شہزاد اٹھ کر گھر چلا جاتا ہے۔

اب اس کو وہ بات بھی یاد آتی ہے کہ ان کی ماں کے مرنے کے بعد جب وہ نانا شفیع کے گھر سے واپس باپ کے گھر آ گئے تو ایک روز رات کا وقت تھا سردیوں کا موسم تھا سارے گھر والے چولہے پر بیٹھے آگ تاپ رہے تھے اور ان کا باپ اور چاچا بھی موجود تھے۔ان کے باپ کونا جانے کسی بات پر غصہ تھا اور وہ ان کی ماں کے بارے  میں یہ کہتا ہے کہ   ڈائن مر گئی اور دانت میرے لیے چھوڑ گئی۔ یعنی خود تو مر گئی اولادکی مصیبت میرے لیے چھوڑ گئی۔یہ بات بچوں کی دل کو چیر کر پار نکل گئی اور سب ایک دَم باپ کا چہرہ حَسرت سے تکنے لگے۔جس پرملک فاروق نے بچوں کے چہروں کو پڑھتے ہوئے فوراً بھائی کو ٹوکا کہ کیا کہ رہے ہو؟  ایسی بات دوبارہ مت کرنا۔ بچے کیا سوچیں گے۔شاید یہ بات سب بھول گئے ہوں مگرشہزاد کو ابھی بھولنے والی نہیں تھی۔ یہ سب باتیں اسے یاد آنے لگیں تو اس کا دماغ چکرانے لگا اور وہ جا کر بستر پر بیٹھ گیا۔ساری رات سوچوں میں گزار دی اور ایک لمحہ بھی نیند میسر نہیں آئی کہ آخر بھائی ہونے کا حق کیسے ادا کیا جائے؟اور اپنی بہن کو جہنم میں دھکیلنے سے کیسے بچایا جائے؟ جیسے تیسے رات گزر گئی تو اس نے سوچا کہ اپنی بڑی پھوپھی جس کا نام منظوراں تھا اس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا اس کے پاس جائے اور اس کو لے کر صبح ابو سے اکیلے میں مل کر بات کرے ہو سکتا ہے ابو نے سب کے سامنے ایسے بولا ہو مگر اکیلے میں اب بھی وہ شہزاد کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ پر قائم ہو۔صبح سویرے وہ  ہاسٹل سےنکلا اور پھوپھی کو ساری باتیں بتانے کے بعد اس کو لے کر شام تک اپنے گھر پہنچا۔ جب سب لوگ رات کا کھانا کھا کہ سونے کی تیاری میں مصروف تھے  تو شہزاد اور اس کی پھوپھی  کمرے میں بیٹھے آپس میںیہی مشورہ کر رہے تھے کہ آخر ابو سے بات کیسے کی جائے اور اگر وہ غصہ میں آ گیا اور دونوں کو بے عزت کیا تو پھر کیا بنےگا۔لیکن شہزاد کہتا ہے نہیں میرا باپ اتنا بے انصاف نہیں ہو سکتا مجھے یقین ہے اکیلے میں وہ اب بھی اپنی بات پر قائم ہوگا ہو سکتا ہے وہ اب کوئی نئی راہنکالے کہ کیسے عابدہ کے رشتے سے چاچا سے جان چھڑوائی جائے لیکن اس کی پھوپھی کہتی ہے نہیں شہزاد تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی ہے میں اس کے ساتھ زیادہ وقت گزار چکی ہوں وہ ہماری بات نہیں سنے گا۔ابھییہی باتیں چل رہی ہوتی ہیں کہ شہزاد کا باپ کمرے میں داخل ہوتا ہے اور ان کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور تھوڑا سخت لہجے میں پوچھتا ہے کیا باتیں کر رہے ہو مجھے بھی تو بتاؤ آخر خیر تو ہے پھوپھی بھتیجے میں کیا میٹنگ چل رہی ہے؟جس پر پھوپھی کہتی ہے کہ یہی کہ آپ عزیز والوں کو اچھی طرح جانتے ہو اور سب کچھ جاننے کے بعد بھی  رشتہ کر رہے ہو۔آخر کیا سوچ کر کر رہے ہو؟اگر مناسب سمجھو تو ہمارے ساتھ بھی بات کرو۔بس پھر ہونا کیا تھا یہی بات ہونے کے دیر تھی ہے وہ  ایسا گرجنے لگا جیسے ہیراوشیما اور ناگا ساکی میں بم گرا ہو۔اور کپڑے جھاڑتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور ان دونوں کو دھمکیاں دیتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا کہ تم ہوتے کون ہو ایسی جرت کرنے والے؟میں تمہیں کیوں جواب دوں  تمہاری اوقات کیا ہے؟ اور شہزاد کو مخاطب کر کے بولا کہ میں تمہاری زبان کٹوا دوں گا اگر تم نے زبان پر تالا نہ لگایا تو۔تم میں جو گرمی چل رہی ہے میں سب جانتا ہوں۔تم اپنے آپ کو عمر سے زیادہ بڑا سمجھنے لگے ہو۔جو تم اب سوچ رہے ہو وہ ہم لوگ دس سال پہلے سوچ کر کے چھوڑ چکے ہیں۔ایسا حشر کروں گا کہ دنیا تماشا دیکھے گی تمہارا۔ یہی کہتا ہوا وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔شہزاد آرام سے یہ ساری فلم دیکھتا رہا اور اس نے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا اور وہ دونوں پھوپھی بھتیجا ہکے بکے رہ گئے۔ اور پھر پھوپھی نے مسکرا کر کہا بس چلیں بیٹا ہو گئی بات چلو ابمجھے گھر واپس چھوڑ آؤ۔میں نہ کہتی تھی تم باپ اور چاچا کو اتنا نہیں جانتے جتنا میں جانتی ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *