Episode 12

ابھی ایک ہی دن گزرا تھا کہ رات کے 7بجے عبدالغفور  بیٹے کو فون کر کے  ہنستے ہوئے انداز میں کہا کہ بیٹا  میں تمہارے چاچا کے آگے نہیں بول سکا اور میں شادی کی تاریخ پکی کرنے لگا ہوں اس لیے تم بھی اب کوئی بات نہ کرنا۔ جب وہ فون پر بات کر رہا تھا تو اس کے پیچھے بیٹھے سب لوگ اونچی اونچی آواز میں قہقہے لگا کر ہنس رہے تھے۔تَب شہزاد  کو شدید غصہ آیا اور اس نے اپنے ساتھ کیے گئے اس مذاق کے بہت برا جانااور اس نے کہا ابو یہ سب جانتے ہوئے کہ وہ کیسے لوگ ہیں پھر بھی آپ اپنی بیٹی کی شادی وہاں کر رہے ہیں؟ آخر ایک دن میں ایسی کونسی مجبوری پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے آپ ایک دن  پہلے مجھ سے کیا ہوا وعدہ بھول گئے اور مجھے جو سب سُن کر دِن رات چین نہیں ہے کہ ہم عابدہ کو کیسے اس گندے گھر سے بچائیں ان سب باتوں کا کیا ہوگا؟کیوں آپ مقر گئے اپنے کیے ہوئے وعدہ سے؟ اگر مناسب سمجھیں تو مہربانی کر کے  مجھے بھی  بتائیں۔ تو انہوں نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو جواب لینے والے میں باپ ہوں جو مرضی فیصلہ کروں! اور پھر اُس نے سب کے سامنےاونچی اور گرجتی ہوئی آواز میں کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم چاچا کے ساتھ اس طرح زیادتی کر رہے ہو۔جس پر شہزاد نے کہا ابو یہ بات ٹھیک نہیں ہے آپ ہی نے مجھے بتایا کہ آپ کا بھائی اولادپیدا کرنے کے قابل بھی نہیں ہے اور جہاں رشتہ کر رہے ہیں ان سب کے بارے میں بھی آپ ہی نے بتایا کہ وہ شراب  اور نشے کا  کاروبار کرتے ہیں۔اور بہت بے غیرت لوگ ہیں۔اب آپ اچانک ایسے بات کر کے مجھے اکیلا چھوڑ رہے ہیں۔آخر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔جس پر اس کے باپ نے اسے شدید  تنقید کا نشانہ بنایا اور سب کے سامنے خوب بے عزت کیا۔اور یہ ثابت کیا کہ میں چاچا کا دشمن ہوں اور فون بند کر دیا۔اور چاچا کے دل میں میرے لیے نفرت بھر دی جو ساتھ بیٹھا ساری باتیں سن رہا تھا اور اپنی شادی کے لیے خریدا گیا دلہن کا جوڑا دیکھ دیکھ کر اونچی اونچی ہنس رہا تھا۔اس کے بعد شہزاد کی پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور شدید غصے میں آ گیا ۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتا  اور خود ہی جواب دیتا گیا۔پھر دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب میں مر تو سکتا ہوں مگر اپنی بہن کو ایسے غلیظ دَل دَل میں  اکیلے نہیں چھوڑ سکتا۔

ایک طرف یہ سوال کہ تو کیسا بھائی ہے کہ اپنی بڑی بہن خالدہ کے رشتے پر بھی کچھ نہ کر سکا اور اب آخری اور چھوٹی بہن کی شادی بھی ایسے گھر میں کر رہا ہے جس پر ساری زندگی پچھتاوے اور وسوسوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوگا۔پھر سوال ہوتا کہ جب تو کسی شریف گھر کی لڑکی سے شادی کر کے اس کو لائیگا تو کیا عابدہ کا خاوند اور اس کا خاندان تمہارے گھر نہیں آئے گا تو انہیں گھر آنے سے کیسے  روکے گا۔اور بیوی کو کس منہ سے بہن سے ملنے  اس کے گھر لے جائے گا۔ہر طرف سے موت ہوگی۔ایسےکنجر لوگوں کے ساتھ کیسے ساری زندگی نبھائے گا۔اے اللہ کوئی سبیل پیدا کر اور میں اپنی بہن کو ایسا گھر سے بچا سکوں۔چاچا کو تو اپنی شادی کی پڑی ہے جس پر اُسے ذرا  بھر بھی افسوس نہیں ہو رہا کہ عابدہ کا کیا ہوگا۔الٹا وہ تو یہی چاہتا ہےکہ ایسے گھر میں رشتہ ہو اور ہم لوگ ذلیل ہوں۔مگر میرا باپ۔۔۔!!

اسے بھی عابدہ کی ذرا بھی پروہ نہیں ہے وہ تو اس کی بیٹی ہے۔آخر وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔کیا بھائی سے اتنی بات بھی نہیں کر سکتا کہ تم اکیلے رشتہ کر لو ہم اپنی بیٹی نہیں دیں گے۔وہ جیسے لوگ ہیں تم بھی انہیں اچھی طرح جانتے ہو۔یا اگر صرف تم ان سے رشتہ کر لو تو کیا مجبوری ہے۔اسے اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ آکر اس کا بھائی اس کی بیٹی دینے پر کیوں دباؤ ڈال رہا ہے۔آخر کونسی ایسی مجبوری ہے کہ وہ اپنے بھائی سے یہ سب نہیں کہ سکتا اور میرے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو ایک دن میں ٹھوکر مار کر اور ہمارے جزبات  اور عزت کو کچل کر بیٹی کو بھائی کے لیے قربانی کا بکرہ بنا رہا ہے۔بڑی بہن خالدہ  کی خوشیوں کو بھی ایسا ہی روندا گیا تھا اپنی دوسری بیوی کے کہنے پر وہاں رشتہ کر کے  اور اب عابدہ  کی خوشیوں کو بھی ایسا ہی روندا جا  رہا ہے۔اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا ظلم کیوں ہو رہا ہے؟ اے اللہ کب تمہاری مدد آئیگی؟ کہیں ہمارا باپ بھی ہم سے ہماری ماں اور نانا شفیع کے بدلے تو نہیں لے رہا؟ کہیں یہ ملک فاروق کے ساتھ مل کر ہم سےسازش  تو نہیں کر رہا۔ہاں اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ دونوں آپس میں مل کر نان شفیع سے بدلہ لینا چاہ رہے ہیں تو پھر ہمارے باپ کے سامنے ہماری خوشیوں اور زندگی کی کیا قیمت ہے۔پھر اس کو ایک وقت یاد آتا ہے جو کہ دُو سال پرانی بات تھی کہ جب ایک دفعہ کسی دوست کی شادی پر ملک فاروق، اس کی بیوی اور خالدہجا رہے تھے تو ملک فاروق خالدہ سے کہتا ہے کہ دوپٹہ کیوں سر پر لے رہی ہو۔جس گھر میں شادی پر جا رہے ہیں وہ بہت ایڈوانس لوگ ہیں دوپٹہ اتار کر پھینک دو۔اس وقت شہزاد یہ کہتا ہے کہ چاچا جوان بیٹی ہے آپ اس کے سر کا دوپٹہ اتارنے کو کہ رہے ہیں۔یہ تو بالکل غلط بات ہے الٹا اگر  وہ دوپٹہ  نہ لے رہی ہوتی تو آپ اسے کہتے کہ بیٹا سر پر دوپٹہ لے لو یا حجاب پہن لو تا کہ ان لوگوں پر بھی اچھا اثر پڑے۔لیکن آپ ہیں کہ الٹا اتارنے کا حکم صادر کر رہے ہیں۔چاچا بھی بات ہوتا ہے آخر ایک بات ایسا کیسے کہ سکتا ہے؟جس پر ملک فاروق بہت غصہ میں غُرا کرشہزاد  کو مارنے کی طرف لپکا  تو شہزاد لڑائی نہ چاہتے ہوئے جلدی سےاپنے گھر چلاجاتا ہے۔جس پر چاچا نے ان کے باپ سے بھی شکایت کی کہ شہزاد نے آج میرے ساتھ ایسے ایسے بد تمیزی کی ہے جس پر شہزاد کو باپ سے بھی بہت کچھ سننا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس کے بعد وہ  خالدہ کو بنا دُوپٹہ کے شادی  پر لے کر گیا۔جس پر شہزاد کو بہت غصہ آیا۔ پھر ایک دفعہ شہزاد کا دوست اس کے گھر ملنے کے لیے آتا ہے تو اچانک شہزاد کا چاچا اور ابو بھی وہاں آجاتے  ہیں۔ کچھ باتیں کرنے کے بعد وہ اس کے دوست کے سامنے اس  کا گلہ شکوہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور اس کی ناک زمین میں لگوانے میں کوئی کَسر باقی نہیں چھوڑتے۔شہزاد یہ سب کچھ چپ چاپ سر جھکائے سنتا رہتا ہے۔اس کا چاچا پھر وہی بات دہرا تاہے شادی والی کہ اس نے میرے سامنے ایسے بد تمیزی کی ہے۔جس پر اس کے باپ کو بھی بہت غصہ آتا ہے اور اسی وقت وہ بھی اسے دو چار اچھی خاصی سنا ڈالتا ہے۔جس پر شہزاد صرف اتنا کہتا ہے کہ میں نے ایسی کونسی غلط بات کہ دی جس پر آپ لوگ میرے دوست کے سامنے میری عزت مٹی میں ملارہے ہیں۔یہی کہا تھا نہ کہ جوان بیٹی ہے پردہ میں لے کر باہر جاؤ نہ کہ لوگوں کے سامنے نمائش بنا کر پیش کرو۔ جس پر ملک فاروق کہتا ہے تم ہوتے کون ہو ہمیں سمجھانے والے اور ہمارے سامنے زبان درازی کرنے والے۔ میں تمہاری بہنوں سے چکلا چلواؤں گا تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے میں تمہاری زبان کٹوا دونگا وغیرہ وغیرہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *