Episode 11

یوں اس شخص نے سب کو بلیک میل کر کے اپنا مطلب سیدھا کرنے کی کوشش کی۔میرا کیا ہے چار دن خوبصورت لڑکی کے ساتھ بھی گزار لوں گا اور عابدہ کو طلاق دلوا کر ان کے نانا  ملکشفیع سے بدلہ بھی پورا ہو جائے گا کیوں کہ یہ سب بہن بھائی اپنے ننیال والوں کو زیادہ عزیز سمجھتےہیں اس طرح ان سے بھی بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ایک تیر سے دو شکار کھیلے جا سکتے ہیں۔مگر اس درندہ نما انسان کو اپنے بھائی کی زندگی پر ذرا بھی ترس نہ آیا کہ آخر میں اس کی زندگی کیسے برباد کر رہا ہوں۔

عبدالغفور کی محبت دوسری اولاد کی طرف  بڑھتی گئی۔پہلی اولاد کی ہر غلطی پر اسے ان کی ماں اور نانا کا کرداریاد آ جاتا اور وہ ان سے بُرا رویہ سے پیش آتا جس سے بچوں کے دل میں فرق بڑھتا گیا۔ اور بچوں کو  ان کے ننیال ہی ان کے خیرخواہ نظر آنے لگے۔اسی طرح ملک فاروق نے   اس شرابی گھر میں رشتہ پکا کر دیا اور منگنی بھی ہو گئی-عابدہ کا باپ اس رشتے پر راضی نہیں تھا مگر بھائی کے احسانوں میں دباہوا  اس کے  آگے بول  بھی نہ سکتا تھا کیوں کہ جب بھی وہ بولنے کی کوشش کرتا تو وہ اس کو اپنا جیل کا وقت یاد کرواتا کہ میں تمہاری وجہ سے جیل گیا تھا  اور صرف یہی نہیں جب بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے میں ہی تمہیں پیسے دیتا ہوں اور اس طرح وہ اسے ذہنی طور پر یرغمال بنا لیتا- جس کی وجہ سے عبدالغفور بھی چپ رَہ جاتا۔ادھر ملک فاروق کو یہ فکر تھی کہ کہیں عبدالغفور رشتہ سے انکار نہ کر دے اس طرح ملک شفیع سے بدلہ لینے کا حسین موقع ہاتھ سے نکل جائے گا اس نے جلدشادی کرنے کا شور مچا ردیا۔جس کی وجہ سے ملک عبدالغفور کو بھی پریشانی تھی کہ ایک تو ان لوگوں کو ہم جانتے تک نہیں اوپر سے بھائی شادی کے لیے جلدی مچا رہا ہے۔ اتنے میں عبدالغفور نے بھائی سے صرف یہی کہا کہ شادی سے پہلے ہم ان لوگوں کے بارے میں ان کے رشتہ داروں یا ان کے ہمسائیوں سے کچھ جان لیں تو اچھا ہوگا۔بعد میں پچھتانا نہ پڑے کہ کیسے گھر سے رشتہ کرکے پھنس گئے۔ یہ بات سنتے ہی ملک فاروق کو آگ لگ جاتی اور بلیک میل کرنا شروع کر دیتا۔ جس پر عبدالغفور کے دل میں بھی ایک بات بیٹھنے لگی کہ آخر یہ جلدی رشتہ کرنے کے لیے کیوں بےچین ہو رہا ہے اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ فاروق کی اولاد بھی نہیں ہوگی۔۔تو انہی پریشانیوں میں مبتلا  اس نے ادھر ادھر لوگوں سے پوچھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ وہ ایک نمبر کے شرابی اور جواکھیلنے والے لوگ ہیں-حتیٰ کہ مردوں کی گھر میں عدم موجودگی میں ان کی عورتیں غیر لوگوں کو شراب بیچنے سے بھی گزیز نہیں کرتیں اور گھرمیں شرابی گاہکوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور وہ لوگ اس چیز کو برا بھی نہیں سمجھتے کیونکہ انکی روزی کا دارومدار شراب کے کاروبار میں ہی تو تھا۔جب سب دوستوں نے ایک ہی بات کی تو ملک عبدالغفور اس گھر میں بیٹی دینے سے انکاری ہو گیا-مگر بڑے بھائی کا ڈَر اور احترام بھی اس کو سکون کی نیند سونے نہیں دیتا تھا۔ جب رشتہ سے انکار کرنے کی ہمت نہ کر سکا تو اس نے اپنے بڑے بیٹے شہزاد  کو اپنی سوچ میں شامل کیا اور سب کچھ صاف صاف کہ سنایا کہ بیٹا وہ لوگ ایسے ایسے ہیں۔شہزاد اس وقت شہر  ہاسٹل میں رہتا تھا اور کالج میں پڑھتا تھا تو ایک دن جب عبدالغفور شہزاد کو ہاسٹل چھوڑنے جا رہا تھا تو اس سے مشورہ کیا کہ بیٹا تم کیا کہتے ہو اس معاملے میں۔تمہاری کیا رائے ہے۔جہاں ہم عابدہ کا رشتہ کر رہے ہیں وہ لوگ عزت دار نہیں ہیں میں تمہیں سب کچھ ٹھیک ٹھیک بتا چکا ہوں۔کیا یہ سب جاننے کے باوجود بھی ہم رشتہ کر دیں؟یہ تو عابدہ کے لیے اچھا نہیں ہوگا اور نہ ہمارے لیے بھی اچھا ہوگا کہ کل کو ایسے بے غیرت لوگوں کا ہمارے گھر میں آنا جاناہو۔شہزادنے جب یہ سنا تو ہکا بکا رہ گیا ۔ یہ سب سُن کر بہت پریشان ہوگیا  اس نے باپ سے صرف اتنا کہا کہ ابو ہم لوگوں کو یہ سب کچھ رشتہ کرنے سے پہلے دیکھ لینا چاہیے تھا۔خیر اب بھی وقت ہےکہ ایسے گھر سے ابھی جان چھڑوا لیں تو اس کے باپ نے کہا کہ میں تمہارے چاچا کے سامنے نہیں آ سکتا وہ بہت سخت ناراض ہوگا جس کی تاب میں نہیں اٹھا سکوں گا اس لیے ہم دونوں باپ بیٹا آپس میں مشورہ کرتے ہیں کہ اب ہم اس گھر میں رشتہ کسی صورت نہیں کریں گے بے شک تمہارا چاچا ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے۔وہ کرلے رشتہ  اور لے آئے اپنی دلہن مگر ہم اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیں گے۔ اس طرح ملک عبدالغفور نے کہا کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ تم کہو کہ میں اپنی بہن کا رشتہ ایسے گھر میں نہیں کروں گا۔اس طرح میں بھی کہ سکوں گا جب بڑا بیٹا راضی نہیں ہے تو میں اکیلا کیسے رشتہ کر لوں اور اس کی بات بھی ٹھیک ہے وہ گھر بھی تو اچھا نہیں ہے۔ اس طرح ہم لوگ رشتے سے انکاری ہو جائیں گے۔آخر ملک فاروق کی بھی شادی ہو جائے گی  ۔ شہزاد کواس کے باپ نے پہلے مرتبہ اپنی رائے میں شامل کیا تھا جس پر اس نے کہا ابو آپ کی بات تو ٹھیک ہے مگر اس فیصلے پر قائم رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں بھائی کی تاب نہ اٹھاتےہوئےاپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جائیں اور میری چاچا سے ساری عُمر  کی دشمنی پیدا ہو جائے۔اگر فیصلہ پر قائم رہنا ہے تو آج ہی صاف صاف بتا دیں  اس طرح میں بھی کوئی بات نہیں کروں گا کیوں کہ مجھے پتہ ہے آپ اپنے بھائی کے سامنے اُف تک نہیں کہ سکتے۔اور میری بات بھی تب ہی مضبوط ہو گی جب آپ کا ساتھ ہوگا کیونکہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔تو باپ نے کہا کہ تم بے فکر ہو جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔تم جاؤ اور دل لگا کر پڑھائی کرو۔بس جب اگلے ہفتے واپس آنا تو یہی کہنا کہ میں یہ رشتہ میں بالکل راضی نہیں ہوں۔اور ان دونوں باپ بیٹا میں یہ بات طے ہوئی اس کے بعد شہزاد ہاسٹل چلا گیا اور باپ گھر واپس آ گیا۔گھر واپس آ کر اس نے بھائی سے کوئی بات نہ کی اور رشتہ میں رضامندی کا اظہار ہی جاری رکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *