Episode 10

یہ سب جانتے ہوئے کہ بیٹی بھی دلی طور پر راضی نہیں ہے تو بیوی کے سامنے انکار نہ کر سکا اور اس کی باتوں میں آ کر جھٹ پٹ منگنی نکاح کی تاریخ مقرر کر دی۔اوراپنی بڑیبیٹی کو اکیلا چھوڑ دیا دہکتے ہوئے ریگستان میں ایسی ذات جو رشتہ کے وقت بات تک نہ کر سکے۔اسے ایک بار پھر قربانی دینا پڑی۔

دلہن کا  بھائی جو کہ اس سے چار سال چھوٹا تھا اس کا نام شہزاد تھا اور وہ ابھی بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچا تھا وہ یہ سب دیکھتا اور سنتا ہی رہ گیا کہ اس کی بہن ہر روز اسے یہی کہ کر رات سلاتی ہے کہ تم میرے کیسے بھائی ہو جو میرے معاملات میں کچھ بھی ساتھ نہیں دیا۔کیونکہ وہ ابھی چھوٹا تھا کچھ کر بھی تو نہیں سکتا تھا اور زمانے کی تیز رفتاری اور ان میں چلنے والی گرم ہواکااندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ وہ بس حَسرت دل میں لیے جب بہن سو جاتی تو دوسری طرف منہ کر کے رُو رُو کر سو جاتا  اور اللہ سے گلے شکوے کرتا رہتا کہ ہمیں کس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے؟ آخر ہمارا کیا قصور ہے؟ہمیں کس غلطی کی سزا مل رہی ہے؟دوسری طرف ان کے ننیال ان کو روتا دیکھ کر سر پر ہاتھ پھیرتے اور کہتے کہ کبھی تو ہمارا بیٹا بڑا ہوگا جب باپ  اور  چاچا سے ہر بات کا بدلہ لے گا اور اپنی بہنوں کا ساتھ دینے والا بنے گا۔ان کے منہ سے وہ لفظ نہیں بلکہ جہنم سے نکلنے والی خطر ناک آگ ہوتے تھے جو سب کچھ بہا کر لے جاتے اور ہر طرف آگ ہی آگ دکھائی دیتی۔اس طرح پانچ سال گزرنے کے بعد خالدہ کی رخصتی کر دی جاتی ہے جس پر بہن کے روتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر  شہزاد کے دل میں بہت سے سوال اٹھتے اور خود ہی ان سوالوں کے جواب دے کر دل پر پتھر سا رکھ لیتا کہ میں ایک  ایسا وقت لاؤں گا انشاءاللہ جب میری بہنوں کو خوشیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

ماں کا سایا،باپ کی بے رخی اور  تربیت کی کمی اور ننیال کی نفرت بھری باتیں شہزاد کوایک انجان دنیا میں لے جاتیں جہاں وہ ہر پل ہر لمحہ اپنے آپ سے ایک ہی سوال کرتا کہ آخر کب میں اس قابل ہوں گا کہ اپنے بہن بھائیوں کے لیے کچھ خوشیاں خرید کر لا سکوں۔ آہستہ آہستہ وقت  گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ باپ کے چہرے پر ہر وقت غصہ دیکھنا اور خوشیوں کا روندنا  ان کا مقدر سا بن گیا تھا۔ہر بات پر ڈانٹ اور ہر عمل پر روک ٹوک نے شہزاد کو  اور پریشان کردیا۔ پھرایک وقت ایسا آیا جب اس کے چچا  فاروق  نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کا فیصلہ کیا یہ سب جانتے ہوئے کہ اللہ نے اسے اس نعمت سے محروم کر رکھا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ فاروق ہی میں اللہ نے یہ صلاحیت نہیں رکھی کہ وہ اولاد کی نعمت سے مالا مال ہو سکے۔پھر بھی اس نے دوسری شادی کا ارادہ کیا۔اس نے بیسیوں رشتے دیکھے اور ہر دفعہ یہ بات عبدالغفور اور باقی سب کے دماغ میں بٹھاتا کہ چونکہ میری عمر زیادہ ہے اس لیے اگر مجھے رشتہ ملنے میں دشواری پیش آئی اور لڑکی والوں نے بھی ہم سے بدلے میں رشتہ مانگ لیا تو عبدالغفور کی چھوٹی بیٹی جس کا نام عابدہ تھا  ہم بدلے میں رشتہ دیں گے اس طرح اس نے سب کے ذہن اپنی طرف متوجہ کر لیے مگر اسے کوئی رشتہ پسند نہ آیا۔اس شیطان نما انسان میں ابھی بھی ان کی ماں کے بدلے کی آگ دل سے نہ گئی اور اس شخص نے ان بچوں کا انجام بھی اپنی ماں جیسا کرنا سوچ لیا۔اب اس کا مقصداور ٹارگٹ تھا ان کے نان شفیع سے بدلہ لینا۔پھر اسے شادی کے لیے ایسی لڑکی پسند آئی جس کا باپ شراب اور نشہ آور چیزیں بیچنے کا کام کرتا تھا اور لڑکی کا  ایک ہی بھائی وہ بھی کسی کام کا نہیں ہر وقت باپ کے ساتھ نشے میں دُھت آوارہ گردی کرتا رہتا اور نشہ آور چیزیں بیچ کر گھر کے اخراجات پورا کرتا تھا۔ فاروق نے وہاں رشتہ کرنا چاہا کیوں کہ ان کی چاروں بیٹیاں جن میں دُو کی تو شادی ہو چکی تھیں اور دو کنواری بیٹھی تھی بہت خوبصورت اور حسین جمیل تھیں اور فاروق کو بھی تو حسن ہی درکار تھا اور وہ بی تو ایسے ہی گھر میں رشتہ کرنا چاہتا تھا تا کہ کچھ عرصہ بعد جب میرے ہاں اولاد نہیں ہو گی تو عابدہ کے گھر میں ضرور آگ لگے گی کہ جب فاروق اولاد کے قابل ہی نہیں تھا تو پھر اس نے ہماری بیٹی سے شادی کیوں کی اور ہمیں دھوکہ کیوں دیا۔فاروق  اس لڑکی کے حُسن کا اتنا دیوانہ ہوا کہ نہ دن دیکھا نہ  رات رشتہ طے کر لیا  اور ان کو یہ پیغام بھی بھجوا دیاکہ اگر آپ بھی اپنے بیٹے کے لیے  ہم سے رشتہ لینا چاہیں تو میرے بھائی کی بھی ایک بیٹی عابدہ کنواری بیٹی ہے ہم رشتہ دینے کے لیے تیار ہیں جس کہ نتیجے میں انہوں نے بھی اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگ لیا اِدھر فاروق عبدالغفور اور اس کی فیملی  کو کان و کان یہ خبر پہنچا چکا تھا کہ وہ بھی رشتہ لینا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی باتوں باتوں میں عبدالغفوراور اس کی اولاد کو اس کا گزرا کل بھی یاد کروا دیتا کہ میں  نےآپ کی بیوی اور سسرال کی وجہ سے اور بچوں کی ماں کی وجہ سے جیل کاٹی تھی  اور بہت بے عزتی برداشت کی تھی۔وہ باتوں باتوں میں یہ احساس دلواتا کہ میرا تم سب پر قرض ہے اور تم قرض اس صورت میں اتار سکتے ہو اگر میرے مدمقابل میرے سسرالیوں کو اپنی بیٹی کا رِشتہ دے دو تو۔جس پر عبدالغفور اور اس کی اولاد ایک بار پھر خاموش ہو جاتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *