Episode 1

“رِشتے خون کے”

گاؤں کی مٹی کی خوشبو بھی کیا عجیب ہوتی ہے جس کا بچپن گاؤں میں گزرا ہو اسے دبئی اور پیرس میں رہتے ہوئے بھی اپنے گاؤں کی خوشبو ستاتی رہتی ہے اور جس نے سرسوں کی فصل میں کھلتے ہوئے پھولوں کو دیکھا ہو تو اسے بھلا کیسے اپنے دیس کی مٹی کی یاد نہیں ستاتی ہوگی۔اس وقت کو یاد کر کے تو چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آ جاتی ہے جب گھر کے قریب سے گزرنے والی چھوٹی ندی میں بچوں کے ساتھ ننگے نہایا کرتے تھے۔ اور بارش کے شروع ہوتے ہی چھوٹے چھوٹے پجامے پہن کر دوستوں کے ساتھ نہانے نکل جاتے تھے۔اور وہ وقت بھی کتنا پیارا تھا جب ذہن پریشانیوں سے بالکل دور ہوتے تھے اور سارا دن دوستوں کے ساتھ گولیاں اور کرکٹ اور گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔اور کرکٹ کھیلتے ہوئے گیند اڑ کر دور کسی گھاس یا جھاڑی کے اندر جا گرتی تھی اور سارے کے سارے کھلاڑی گیند ڈھونڈنے نکل پڑتے حتٰی کہ بیٹنگ کرنے والابھی بیٹ کو نیچے پھینک کے بال ڈھونڈنے نکل پڑتا اور دَبی دَبی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جانے کا نام نہی لیتی تھی کہ اس نے اتنی زور سے چھکا مارا کہ گیند اتنی دور جا گِری اور جب کوئی لڑکا یہ کہتا کہ یار اتنی زور سے کیوں شارٹ ماری تواس کا یہ کہنا کہ میں نے اتنی زور سے تو نہیں ماری تھی بلکہ صرف یوں ٹَچ ہی تو کیا تھااس کو یاد کر کے دل خوش ہوجاتا ہے اور پھر کسی لڑکے کو گیند کا مِل جانا اور اس کے بارے میں کسی دوسرے کو نہ بتانا اور پاؤں کے نیچے دبا کے ایک جگہ کھڑے رہنا یہ سوچ کر کہ جب سب لوگ تھک کر چلے جائیں گے تو وہ اسے نکال کر گھر کی راہ لے گا اور گھر میں ہی کھیلا کرے گا- بہت اچھے وقت کی یاد دلاتا ہے کاش کہ وہ وقت ایک بار پھر واپس آ جائے۔آہ۔۔۔۔۔۔
اور پھر کماد کی فصل کا وقت آتا تھا اوراس کی کٹائی کے لیے لوگ جمع ہوتے تھے اور صبح صادق کے وقت سورج نکلنے سے پہلے پہلے منہ ہاتھ دھونے کے بعد ایک ایک پیالہ چائے کا پیئے ہاتھ میں اپنی اپنی درانتیاں لیے سب کے سب کٹائی کے لیے نکل پڑتے تھے تا کہ سورج نکلنے سے پہلے پہلےکٹائی ہو جائے پھر ایک لڑکی جو کھانا پکانا جانتی ہوتی تھی وہ سب کے لیے کھانا تیار کر کے ان کو پہنچاتی تھی۔پھردوپہر کے وقت شدید گرمی کی وجہ سے سب دو گھنٹے کے لیے کام روک کر کسی گھنے درخت کے نیچے زمین پر سو جاتے تھے پھر زمین کے مالک (زمیندار) سے کہتے تھے کہ تھوڑی دیر ٹیوب ویل چلائے تا کہ وہ نہا لیں پھر خوب مزے سے ٹھنڈے پانی کا مزہ لیتے اس کی وقت کی یاد دلاتا ہے اور منہ سے بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے۔

“کاش کےلوگ فصل ہی کاٹتے
کاٹ دیاانہوں نےمجھےکانٹاسمجھ کر “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *